The news is by your side.

Advertisement

افغانستان کی عبوری حکومت کے سربراہ اور وزرا کون ہیں؟

افغان طالبان نے عارضی حکومت تشکیل دیتے ہوئے وزرا اور کابینہ اراکین کے ناموں کا اعلان کردیا، جس کے مطابق سربراہ محمد احسن اخوند کو منتخب کیا گیا ہے۔

کابل میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے ذبیح اللہ مجاہد نے نئی حکومت کی تشکیل اور وزرا کے ناموں کا اعلان کیا۔

انہوں نے بتایا کہ نئی حکومت کےسربراہ محمد احسن اخوند ہوں گے جبکہ ملاعبد الغنی برادر کو معاون سرپرست ریاست اور وزرا کا عہدہ دیا گیا ہے، اسی طرح مولوی محمد یعقوب مجاہد وزیردفاع، سراج حقانی کو وزیرداخلہ تعینات کیا گیا ہے۔

ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق مولوی ملاہدایت اللہ وزیرماحولیات،ملاخیراللہ وزیراطلاعات ہوں گے، ملا امیرخان متقی وزیرخارجہ، شیخ نور اللہ منیر سرپرست وزارت معارف، قاری دین محمد وزیر اقتصادی امور ہوں گے۔

ملا محمد حسن اخوند کون ہیں؟

افغان طالبان کی جانب سے نامزد عبوری سربراہ ملا محمد حسن اخوند طالبان کی طاقتور رہبر شوریٰ کے بھی سربراہ ہیں، ان کا تعلق قندھار سے ہے جہاں طالبان کی بنیاد پڑی تھی، ملا محمد حسن طالبان کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں وہ بیس سال تک طالبان کی رہبری شوریٰ کے سربراہ رہے ہیں اور ایک مذہبی اسکالر ہیں۔

نئے سربراہ نے طالبان کے موجودہ امیر ملا ہبت اللہ کے ساتھ 20 سال تک کام کیا ہے، وہ پچھلی طالبان حکومت میں وزیرخارجہ بھی رہ چکے ہیں۔

ملا محمد حسن اگست 1999 میں بطور وزیر خارجہ پاکستان کا دورہ بھی کر چکے ہیں جہاں انہوں نے اُس وقت کے وزیراعظم نواز شریف سے بھی ملاقات کی تھی۔

ملا عبدالغنی برادر

ملا عبدالغنی برادر کا شمار طالبان تحریک کے سرکردہ رہنماؤں اور ملا عمر کے انتہائی اہم اور قریبی ساتھیوں میں ہوتا ہے، ملا برادر طالبان شوریٰ کے اہم رکن اور ملا محمد عمر کے نائب کے طور پر جانے جاتے تھے، ان کا تعلق بنیادی طور پر افغانستان کے جنوبی ضلع اورزگان سے بتایا جاتا ہے۔

ملا عبدالغنی برادر 1968 میں پیدا ہوئے ابھی ان کی طالب علمی کا زمانہ تھا کہ اس دوران افغانستان میں سابق سوویت یونین کی افواج کے داخلے کے ساتھ جنگ چھڑ گئی، ملا عبدالغنی برادر اپنے اہل خانہ سمیت پاکستان ہجرت کر کے کوئٹہ کے قریب واقع کچلاک میں رہائش پذیر ہو گئے۔

ملا برادر سنہ 2010 میں پاکستان میں اپنی گرفتاری سے قبل ناصرف طالبان کی قیادت میں دوسرے نمبر پر تھے بلکہ طالبان کی پہلی حکومت اور پھر امریکہ کے خلاف جنگی حکمت عملی کے ماسٹر مائنڈ بھی سمجھے جاتے ہیں۔

ملا بردار نے رہائی کے بعد مذاکراتی اور سفارت کاری کی صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہوئے افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے طالبان کے بنیادی مطالبے کو منوانے میں کامیابی حاصل کی تھی اسی کی بدولت طالبان کابل پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

وزیر دفاع ملا محمد یعقوب

طالبان کے بانی امیر ملا عمر کے صاحبزادے ملا یعقوب کو بھی وزیر دفاع کا اہم ترین عہدہ دیا گیا ہے، ملا یعقوب طالبان کے موجودہ امیر ملا ہبت اللہ کے شاگرد رہے ہیں۔

سراج الدین حقانی وزیر داخلہ

طالبان کے مشہور حقانی نیٹ ورک کے موجودہ سربراہ سراج حقانی کو وزارت داخلہ کا اہم عہدہ دیا گیا ہے، سراج الدین حقانی طالبان کے امیر ملا ہبت اللہ کے دو نائبین میں سے ایک ہیں، حقانی نیٹ ورک پر افغان جنگ کے دوران امریکا کی جانب سے پابندیاں لگائی گئی تھیں اور اب بھی سراج الدین حقانی کی گرفتاری کے لیے مدد دینے پر امریکہ کی جانب سے پچاس لاکھ ڈالر کا انعام رکھا گیا ہے، ایف بی آئی کی ویب سائٹ کے مطابق حقانی 2008 میں ہونے والے کابل ہوٹل حملے کے لیے مطلوب ہیں جس میں امریکی شہری سمیت چھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

حقانی نیٹ پر امریکا کی جانب سے القاعدہ کی مدد کا الزام بھی عائد کیا جاتا ہے، اسے جلال الدین حقانی نے اسی کی دہائی میں سابق سوویت یونین کے خلاف مسلح جدوجہد کے لیے قائم کیا تھا۔ 1996 میں طالبان حکومت کے قیام کے باجود حقانی نیٹ ورک نے اپنی شناخت برقرار رکھی تھی۔ جلال الدین حقانی 2018 میں انتقال کر گئے تھے مگر ان کی وفات سے قبل ہی حقانی نیٹ ورک کی سربراہی سراج الدین حقانی کو سپرد کر دی گئی تھی۔

سراج حقانی کے چچا خلیل حقانی بھی نئی کابینہ میں مہاجرین کے وزیر مقرر کیے گئے ہیں، سراج حقانی کے بھائی انس حقانی بھی سینیئر طالبان رہنما ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں