The news is by your side.

Advertisement

رکن اسمبلی کے بچوں کو مبینہ طور پر زہر دینے کے معاملے میں اہم پیشرفت

لاہور میں رکن پنجاب اسمبلی مسرت جمشید چیمہ کے بچوں کو مبینہ طور پر زہر دینے کے معاملے میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق رکن پنجاب اسمبلی مسرت جمشید چیمہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر بتایا کہ بچوں، فیملی کو سلو پوائزن دینے سے متعلق کچھ حقائق سامنے آئے ہیں، پولیس نے ابتدائی تفتیش کے دوران ہمارے ملازمین کو گرفتار کیا تھا، تفتیش میں سامنے آیا کہ ملازمین سے ملنے کچھ مشکوک افراد آتے تھے۔

انہوں نے لکھا کہ مشکوک افراد ملازمین کو قیمتی تحائف دیتے تھے، فوٹیج میں پتا چلا کہ گھر کے سابق مالک کی بیٹی ملازمین سے رابطے میں تھی، وہ ملازمین کو نقد رقوم دیتی رہتی تھی، ہمارے گھر کے سابق مالک کی بیٹی کا خیال تھا کہ یہ گھر اس کو دیا جائے گا جس کی خلاف ورزی پر وہ حسد کا شکار ہوگئی۔

مسرت جمشید چیمہ نے بتایا کہ خانساماں کے سامان سے پولیس نے مشکوک کیمیکل قبضے میں لیے ہیں جس کو ملازم نے کھانے میں متعدد دفعہ ملانے کا انکشاف بھی کیا۔

رکن اسمبلی کا کہنا تھا کہ پولیس معاملے کی تفتیش کررہی ہے، اس جرم میں ملوث افراد کے خلاف ہر حد تک جایا جائے گا۔

دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ پنجاب فرانزک لیبارٹری سے تاحال رپورٹ موصول نہیں ہوسکی، زیر حراست ملازمین سے تفتیش جاری ہے، زہر دینے کا حتمی فیصلہ رپورٹ آنے کے بعد ہوسکے گا۔

واضح رہے کہ 3 ستمبر کو معاون خصوصی جمشید اقبال چیمہ کے دو بیٹوں آرش اور آحل کو مبینہ طور پر زہر دے دیا گیا تھا۔

خاندانی ذرائع کا کہنا تھا کہ بچوں کی حالت غیر ہونے پر انہیں نجی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے بچوں کے معدے کو واش کردیا تھا جس کے بعد ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی گئی تھی۔

پولیس کا کہنا تھا کہ حراست میں لیے گئے ملازمین میں خانساماں محمد اقبال اور ڈرائیور وقار شامل ہیں، سیکیورٹی گارڈ، ڈرائیور اقبال، محمد رمضان کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں