The news is by your side.

Advertisement

’ہرشخص حکومت کا خاتمہ چاہتا ہے‘ : جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع

کوئٹہ: اپوزیشن جماعتوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان کے خلاف تحریک عدم اعتماد  سیکریٹریٹ میں جمع کرادی۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق بلوچستان کی اپوزیشن جماعتوں کے 16 اراکین نے وزیراعلیٰ جام کمال کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پر دستخط کیے ہیں۔

چار نکات پر مبنی تحریک عدم اعتمادسیکرٹری اسمبلی  کےآفس میں جمع کرائی گئی ہے۔ اپوزیشن اراکین نے اپنی تحریک میں کہا کہ وزیراعلیٰ کی تین سالہ کارکردگی بدترین رہی، ایسی صورت میں انہیں حکومت کرنے کا کوئی حق نہیں ہے‘۔

اپوزیشن اراکین نے اپنے تحریک میں مؤقف اختیار کیا کہ افغانستان کے موجودہ حالات ایسے ہیں کہ ہر شخص حکومت کا خاتمہ چاہتا ہے، صوبےمیں بدامنی،کرپشن اورلوٹ کھسوٹ کا بازار گرم ہے۔

اپوزیشن اراکین نے مطالبہ کیا کہ قرارداد کی مطلوبہ تعدادپوری ہے،7دن میں اس پر اجلاس بلایاجائےگا، ابھی مطلوبہ تعداد سامنےنہیں لائیں گے،قرارداد والے روز ہمارے سارے نمبر پورے ہوں گے۔

مزید پڑھیں: بلوچستان:حکمران جماعت میں اختلافات طول پکڑنے لگے، ایک اور استعفیٰ تیار

یاد رہے کہ بلوچستان کی حکمراں جماعت میں اندرونی اختلافات کے باعث کئی اراکین نے استعفیٰ دے چکے ہیں۔ حکمران جماعت کے اسپیکر صوبائی اسمبلی عبدالقدوس بزنجو بھی وزیراعلیٰ سےنالاں ہیں،  وزیرتعلیم بلوچستان سرداریارمحمدرند بھی مستعفی ہوچکےہیں اس کے علاوہ بی اے پی کے ہی صالح بھوتانی بھی قلمدان واپس لینےپراستعفیٰ دےچکےہیں۔

ذرائع کے مطابق مشیرفشریزاکبرآسکانی نے بھی مستعفی ہونےکافیصلہ کیا ہے، اکبرآسکانی نے بھی وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ کی جانب سےوعدوں پرعمل نہیں ہورہا ہے۔

یاد رہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال اور اسپیکر عبدالقدوس بزنجو کے درمیان سرد مہری تو پچھلے دو سالوں سے ہے، جو اس وقت پیدا ہوئی جب وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال نے آواران میں ہونے والے ترقیاتی کاموں کی جانچ پڑتال کے لیے وزیر اعلیٰ کی معائنہ ٹیم کو بھجوایا۔

کچھ عرصے سے قبل وزیراعلیٰ بلوچستان کے خلاف عدم اعتماد کی باتوں نے زور پکڑا تو اسپیکر بلوچستان اسمبلی اور وزیر اعلیٰ کے درمیان بھی اختلافات کی خلیج گہری ہوتی چلی گئی۔

رواں ماہ اسپیکر بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال پر الزامات کی بوچھاڑ کرتے ہوئے کہا تھا کہ تین سال سے جام کمال میرے حلقے میں مداخلت کررہے ہیں، اس لئے خاموش رہا کہ پارٹی اور اپنی حکومت کو کوئی نقصان نہ پہنچے، میری خاموشی کو کمزوری سمجھا گیا۔

عبدالقدوس بزنجو کا کہنا تھا کہ خاموش اس لئے رہا کہ وقت کے ساتھ وزیراعلیٰ چیزوں کو بہتر کرینگے مگر دن بدن حالات بہتری کی بجائے ابتری کی طرف گئے، اب کسی صورت خاموش نہیں رہوں گا، پارٹی کو نقصان پہنچا تو جام کمال ذمے دار ہونگے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں