The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب سے پروازیں بحال ہونے کی امید، بلال اکبر پاکستانیوں کی آواز بن گئے

ریاض: سعودی عرب میں تعینات پاکستانی سفیر بلال اکبر نے سعودی سول ایوی ایشن کے صدر سے پراوزیں بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔

عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق پاکستانی سفیربلال اکبر نے سعودی جنرل آف سول ایوی ایشن کےصدرسے ملاقات کی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور کا جائزہ لیا گیا۔

دورانِ گفتگو بلال اکبر نے پاکستان میں کرونا کی بہتر صورت حال سے سعودی سول ایوی ایشن کے صدر کو آگاہ کیا۔ بلال اکبرکی جانب سےبراہ راست فلائٹ آپریشن شروع کرنےکےمعاملات پرگفتگو کی گئی۔

پاکستانی سفیر نے کہا کہ ’حکومتِ پاکستان کی منتخب کردہ ویکسین پائیدار اور عالمی ادارۂ صحت سے منظور شدہ ہے، دونوں خوراکیں لگوانے والوں کو واپسی کی اجازت دی جائے‘۔

ایوی ایشن کے صدر نے سعودی وزارت صحت سےمشاورت کے بعد تجاویزپر غورکرنےکی یقین دہانی کرائی۔

عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق سعودی سول ایوی ایشن جنرل اتھارٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ’ صدر دفتر ریاض میں ہونے والی ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور کا جائزہ لیا گیا ہے، سفیر پاکستان اور عبدالعزیز الدعیلج نے فضائی ٹرانسپورٹ کے شعبے میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعاون کی جہتوں کو مزید بہتر بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا‘۔

بلال اکبر نے عرب میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان میں موجود سعودی اقامہ ہولڈرز، اہل خانہ، طالبہ اور اساتذہ کی سعودی عرب واپسی کے حوالے سے تفصیلی بات ہوئی، محکمہ شہری ہوا بازی اور سفارت خانے کی  مشترکہ کاوشوں سے سعودی عرب سے کرونا ویکسین کی دونوں خوراکیں لگوا کر جانے والے  پاکستانیوں کی واپسی کا عمل جاری ہے‘۔

پاکستانی سفیر نے اس امید کا اظہار کیا کہ سعودی حکومت کی جانب سے آئندہ چند روز میں سفری پابندیوں میں مزید نرمی کی جائے گی اور منظور شدہ ویکسین کی دونوں خوراکیں لگوانے والوں کی واپسی کے حوالے سے ضوابط کا اعلان کیا جائے گا‘۔

انہوں نے بتایا کہ ملاقات میں یہ بھی تجویز دی کہ جو پاکستانی دیگر ممالک میں قرنطینہ کر کے سعودی عرب آرہے ہیں انہیں براہ راست پی آئی اے یا سعودی ایئرلائنز سے آنے کی اجازت دی جائے اور بجائے کسی ملک کے یہاں پر ہی قرنطینہ کرایا جائے‘۔

ایک سوال پر سفیر پاکستان نے کہا کہ ’اس وقت تین سے چار لاکھ پاکستانی جو اقامہ یا مختلف ویزے رکھنے ہیں سعودی عرب آمد کے منتظر ہیں ، امید ہے کہ ان تمام کی واپسی ہوگی‘۔

بلال اکبر کا مزید کہنا تھا کہ ’چینی ویکسین لینے والے افراد کو سعودی عرب میں منظور شدہ ویکسین کی بوسٹر ڈوز  لگوانے کے بعد مملکت میں آنے کی تجویز دی گئی ہے، پاکستان میں لگوائی جانے والی بوسٹر ڈوز بھی قابل قبول ہوگی‘۔

Comments

یہ بھی پڑھیں