The news is by your side.

’امریکا اور پاکستان نے دہشت گردی کا مقابلہ کیا، افغانستان میں امریکا بنیاد اہداف حاصل کرچکا‘

نیویارک: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے76ویں اجلاس کی افتتاحی تقریب کے موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد کی اہم ملاقات ہوئی۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 76ویں اجلاس کی افتتاحی تقریب میں ہونے والی ملاقات میں دونوں ممالک کے رہنماؤں نے  افغانستان کی بدلتی ہوئی صورتحال پرتبادلہ  خیال کیا اور افغانستان میں قیام امن کے لیے اجتماعیت کے حامل سیاسی تفصیے کی ضرورت پر زور دیا،

وزیرخارجہ نےافغانستان میں امن کیلئے زلمےخلیل زاد کی کاوشوں کی تعریف کی۔ دونوں رہنماؤں نے افغانستان میں وسیع البنیاد، جامع حکومت کیلئے پاکستانی معاونت کےتسلسل کا اعادہ کیا اور افغان امن، سیاسی تصفیے کے لیے مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کاشروع سے یہی مؤقف رہا کہ افغان مسئلےکاکوئی فوجی حل نہیں ہے، ہمیں افغانستان میں پنپتے ہوئے انسانی بحران پرگہری تشویش ہے، عالمی برادری کو اس نازک موڑ پر افغانوں کی مدد کرنی چاہیے کیونکہ انسانی بحران کے خطرے سے بچنےکیلئے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’انسانی بحران سے بچنےکیلئے افغانوں کی معاونت یقینی بنانی چاہیے، افغان عدم استحکام خطےمیں نقص امن کو پھرسےجنم دے سکتا ہے، عدم استحکام سےمہاجرین کی یلغار کا خطرہ پھر سے پیدا ہوسکتاہے‘۔

وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی کا کونسل آن فارن ریلیشن سے خطاب

قبل ازیں شاہ محمود قریشی نے کونسل آن فارن ریلیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’افغانستان کی حالیہ صورت حال ہر ایک کی نظر اور ذہن میں ہے، پاکستان اور امریکا  کے درمیان تاریخی تعلقات قائم ہیں، نائن الیون واقعات کے بعد امریکا اور پاکستان نے مل کر دہشت گردی کا مقابلہ کیا، امریکا افغانستان میں اپنے بنیادی اہداف حاصل کرچکا ہے‘۔ 

انہوں نے کہا کہ ’پاکستان کیلئےامریکا ایک اہم اتحادی کی حیثیت رکھتاہے،امریکاکے ساتھ تجارت،سرمایہ کاری،عوامی رابطوں پر مشتمل تعلقات چاہتے ہیں، پاکستان 22 ہزار  افراد پر مشتمل ابھرتی ہوئی مارکیٹ ہے‘۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ’ہمارا خطہ افغانستان میں 40سال سے جاری جنگ سے شدید متاثر ہوا، اب وقت ہے کہ افغان عوام کے ملک کی تعمیر نوکیلئےمددکی جائے، ہم امن، ترقی، خوش حالی کا داخلی ایجنڈا اپنی سرحدوں پر امن قائم کیے بغیرحاصل نہیں کرسکتے، اس لیےوزیراعظم نےاقتدار میں آتے ہی بھارت کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا تھا، بھارت جو ظلم و جبر روا رکھے، وہ کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کی آواز کو نہیں دبا سکتا‘۔

Comments

یہ بھی پڑھیں