The news is by your side.

Advertisement

میزائل تجربے پر تنقید، شمالی کوریا کا اقوام متحدہ پر الزام

سیؤل: شمالی کوریا نے میزائل تجربے پر تنقید کے بعد اقوامِ متحدہ کے رکن ممالک پر بڑا الزام عائد کردیا۔

خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق شمالی کوریا کے وزارتِ خارجہ نے حالیہ میزائل تجربے پر بین الاقوامی برادری کی جانب سے کی جانے والی تنقید پر شدید ردعمل دیا۔

وزارتِ خارجہ کی عالمی آرگنائزیشن کے ڈائریکٹر جو کول سو نے کہا کہ ’سیکیورٹی کونسل اقوامِ متحدہ کے رکن ممالک کی فوجی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے حوالے سے دہرا معیار رکھتی ہے اور رکن ممالک پر اسی پالیسی پر گامزن ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے اجلاس کا مطلب کھلی لاپراہی اور خودمتخاری کے خلاف ظلم اور تجاوز ہے‘۔

جوکول کا کہنا تھا کہ ’اقوام متحدہ امریکا اور اُس کے اتحادیوں کی مشترکہ فوجی مشقوں، ہتھیاروں کے تجربات پرُاسرار خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں، جس سے دوہرا معیار واضح ہوتا ہے‘۔

شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا کے مطابق جوکول نے اقوام متحدہ پر جانبداری کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات عالمی ادارے کے توازن کی تردید کرتے ہیں۔

کوریا کی مرکزی سینٹرل نیوز ایجنسی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے جو حالیہ میزائل کا تجربہ کیا گیا وہ  نئے اینٹی ایئر کرافٹ میزائل کی کارکردگی غیرمعمولی ہے اور اس میں دو ریڈار سمیت دیگر جدید ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔ ستمبر میں شمالی کوریا نے ایک میزائل لانچ کیا تھا جس کے بارے میں اس کا کہنا تھا کہ یہ طویل رینج والا کروز میزائل ہے جبکہ رواں ہفتے کے اوائل میں اس نے ہائپرسانک گلیڈنگ وہیکل کا تجربہ کیا تھا۔

واضح رہے کہ شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ شمالی کوریا نے نئے اینٹی ایئر کرافٹ میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے جو اس جوہری ہتھیاروں سے لیس ملک کی جانب سے میزائل کے تجربات میں تازہ ترین (تجربہ) ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں