The news is by your side.

Advertisement

بھارت کی آبی دہشت گردی کی کوشش، شیخ رشید کا عالمی برادری سے نوٹس کا مطالبہ، پاک بحریہ کی تعریف

راولپنڈی: وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے بھارتی آبدوز کا پیشگی سراغ لگانے پر پاک بحریہ کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو سلام اور خراج تحسین پیش کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے پاکستانی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والی بھارتی آبدوز کو نشانہ بنانے پر پاک بحریہ کے جوانوں کو خراج تحسین پیش کیا۔

شیخ رشید احمد نے بتایا کہ  بھارتی آبدوز نے پاکستانی حدود میں داخل ہونےکی کوشش کی، جس کا پاکستان نیوی نے سراغ لگایا اور اُس کو نشانہ بنایا، بروقت کارروائی اور سراغ لگانے پر پاک بحریہ کو سلام پیش کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ سمندری حدود کے دفاع میں پاک بحریہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا میں پہلے ہی معترف ہوں، رواں ماہ آبدوز حمزہ کے دورے سے میرا یقین مزید پختہ ہوگیا ہے۔

شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ بھارت شاید بھول بیٹھا تھا کہ پاک بحریہ بھی ہمہ وقت مستعد اور چوکس ہے، دنیا بھارت کی پاکستان مخالف جارحیت کا نوٹس لے۔

مزید پڑھیں: پاک بحریہ نے بھارتی بحریہ کے عزائم سمندر برد کردیے

یاد رہے کہ اب سے کچھ گھنٹے قبل پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا تھا کہ پاک بحریہ نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارتی سب میرین کی پاکستانی حدود میں داخلے کی کوشش ناکام بنائی۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق بھارتی سب میرین نے ایک مرتبہ پھر پاکستانی سمندری حدود میں داخل ہونے کی کوشش کی تاہم پاک بحریہ نے بھارتی بحریہ کے عزائم سمندر برد کردئیے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کا کہنا تھا کہ بھارتی سب میرین نے 16 اکتوبر کو پاکستانی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم پاک بحریہ نے پیشہ ورانہ مہارت سے بھارتی عزائم ناکام بنادئیے۔

آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاک بحریہ موجودہ سیکیورٹی صورتحال میں ہمہ وقت چوکنا رہتی ہے اور میری ٹائم کی جانب سے سرحدوں کا دفاع یقینی بنانے کےلیے اقدامات کیے گئے ہیں۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق پاک بحریہ نے ہندوستانی آبدوز کا سراغ لگایا اور یہ تیسری مرتبہ ہے کہ پاک بحریہ نے بھارتی سب میرین کا سراغ لگایا ہے۔ آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ میری ٹائم پٹرول ائیرکرافٹ نے بھارت آبدوز کا بروقت سراغ لگایا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں