The news is by your side.

Advertisement

پھانسی کا وقت کیوں نہیں بتایا؟ جاپانی قیدیوں کا حکومت کیخلاف مقدمہ

ٹوکیو: جاپان میں قیدیوں نے پھانسی کا درست وقت نہ بتانے پر حکومت کے خلاف مقدمہ کردیا۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق جاپان میں سزائے موت کے دو قیدیوں نے پہلے سے پھانسی کا درست وقت نہ بتانے پر حکومت کے خلاف مقدمہ کردیا۔

جاپان میں سزائے موت کے حوالے سے ایسا نظام ہے جس کے تحت قیدیوں کو سزائے موت کے بارے میں صرف کچھ گھنٹے قبل بتایا جاتا ہے، اس طریقہ کار کو قیدیوں نے ذہنی اذیت کا باعث قرار دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق جاپان میں ایک سو سے زائد قیدی سزائے موت کے منتظر ہیں، جاپان ان چند ترقی یافتہ ممالک میں سے ہے جہاں اب بھی سزائے موت دی جاتی ہے۔

دو قیدیوں نے اس عمل کو چیلنج کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ موجودہ نظام غیر قانونی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ قیدیوں کو پہلے سے نوٹس دیا جائے۔

یہ مقدمہ اوساکا کی ضلعی عدالت میں جمعرات کو درج کروایا گیا۔

قیدیوں کے وکیل کا کہنا ہے کہ مقدمے میں حکومت سے دو کروڑ 20 لاکھ ین کا مطالبہ کیا گیا ہے کیونکہ پھانسی کی تاریخ سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سزائے موت کے قیدیوں کو اکثر پھانسی سے صرف ایک یا دو گھنٹے قبل اطلاع دی جاتی ہے۔ اس وجہ سے ان کے پاس اپنے وکیل سے رجوع کرنے یا مقدمہ درج کرنے کا وقت نہیں ہوتا۔

جاپان میں 2019 میں تین اور 2018 میں 15 قیدیوں کو پھانسی دی گئی تھی، ان میں 13 کا تعلق دہشتگرد تنظیم سے تھا، جس نے ٹوکیو سب وے پر 1995 میں مہلک سارن گیس کا حملہ کیا تھا۔

وکیل کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’جاپان سزائے موت سے متعلق زیادہ تفصیلات نہیں ظاہر کرتا، جس کا مطلب ہے کہ اس بارے میں عوامی سطح پر کم ہی بات چیت ہوتی ہے، تاہم عالمی تنقید کے باوجود سزائے موت کو انسانی حقوق کے گروپوں اور عوام کی جانب سے حمایت حاصل ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں