The news is by your side.

ذیابیطس اور تمباکو نوشی سے پاکستان میں سالانہ 5 لاکھ 66 ہزار اموات کا انکشاف

کراچی: طبی ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں سالانہ پانچ لاکھ 66 ہزار افراد ذیابیطس اور تمباکو نوشی کی وجہ سے موت کو گلے لگا لیتے ہیں۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق اس بات کا انکشاف ملکی اور غیرملکی ماہرین صحت نے نیشنل ایسوسی ایشن آف ڈایبٹیز ایجوکیٹرز آف پاکستان (نیڈپ) کی سالانہ فٹ کانفرنس کے اختتامی روز خطاب کرتے ہوئے کیا۔

ماہرین نے بتایا کہ ذیابیطس اور تمباکو نوشی پاکستان میں نہ صرف سالانہ 566,000 افراد کی ہلاکتوں کا سبب بن رہے ہیں بلکہ ان دونوں عادتوں کے نتیجے میں میں سالانہ دو لاکھ سے زائد افراد اپنی ٹانگیں کٹنے کیوجہ سے معذور بھی ہوجاتے ہیں۔

کانفرنس سے انٹرنیشنل ڈائبٹیز فیڈریشن کے صدر پروفیسر اینڈریو بولٹن کے علاوہ برطانوی ماہرین ذیابیطس ڈاکٹر ڈیوڈ چینے، لبنان سے ڈاکٹر ولیم عقیقی، تنزانیہ سے ڈاکٹر جی عباس، نیڈپ کے صدر ڈاکٹر سیف الحق، ڈاکٹر زاہد میاں، پروفیسر عبدالباسط سمیت ملکی اور غیر ملکی ماہرین صحت نے بھی خطاب کیا۔

اس موقع پر ماہرین کا کہنا تھا کہ ذیابیطس کے نتیجے میں پاکستان میں سالانہ چار لاکھ افراد جاں بحق ہو رہے ہیں جبکہ سگریٹ نوشی اور تمباکو کے استعمال سے سالانہ ایک لاکھ 66 ہزار افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ مقررین کے مطابق ذیابیطس کے مرض میں مبتلا تمباکو نوشی کرنے والوں میں ٹانگیں کٹنے کی شرح بہت زیادہ ہے اور اگر ایسے افراد دل کے دورے اور فالج سے بچ بھی جائیں تو ان کی ٹانگیں شوگر کی وجہ سے بہت زیادہ خراب ہوجاتی ہیں۔

عالمی ادارہ صحت سے وابستہ ماہر طب شہزاد عالم کا کہنا تھا کہ دنیا کے کئی ممالک کے علما نے اب تمباکو نوشی اور اس کے استعمال کو حرام قرار دینا شروع کردیا ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں سالانہ لاکھوں اموات ہورہی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ تمباکو نوشی کی وجہ سے ذیابیطس کی بیماری بھی عام ہوتی جارہی ہے، جس سے ہارٹ اٹیک ، فالج اور ٹانگوں سے معذور افراد کی شرح میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔

انٹرنیشنل ڈائبٹیز فیڈریشن کے صدر پروفیسر اینڈریو بولٹن کا کہنا تھا کہ یورپ میں ذیابیطس کے مریضوں میں پاؤں کے زخموں کی شرح محض دو فیصد ہے جب کہ ترقی پذیر ممالک بشمول پاکستان میں پاؤں کے زخموں کی تعداد دس فیصد سے زائد ہے جس کے نتیجے میں ہر سال لاکھوں افراد اپنی ٹانگیں کٹنے کی وجہ سے معذور ہو جاتے ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہا ترقی پذیر ممالک کو عوامی آگاہی اور صحت کی معلومات میں اضافے کے لئے پروگرام شروع کرنے چاہیے جبکہ دوسری جانب ٹیلی میڈیسن سمیت جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے مریضوں کو ذیابطیس کی پیچیدگیاں اور اس کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکت اور معذوری سے بچایا جا سکتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں