The news is by your side.

Advertisement

مادرجمہوریت محترمہ نصرت بھٹو کی آج پانچویں برسی ہے

کراچی : سابق خاتون اول محترمہ نصرت بھٹو جمہوریت کی بقا کے لیے بدترین آمرانہ دور میں ندائے حق بلند کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون سیاست دان تھیں،80 کی دہائی میں شروع ہونے والی ہمہ جہت،بلند حوصلہ اورعزم و ہمت کی یہ داستان 23 اکتوبر 2011 کو اپنے اختتام کو پہنچی۔

پیپلز پارٹی کے پہلے دور حکومت میں 1979 کو جنرل ضیا الحق نے مارشل لا کے نفاذ کے بعد الٹ دیا اور پھر ملک کے مقبول ترین لیڈر اور منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو عوامی احتجاج کے باوجود تختہ دار پرلٹکا دیا گیا تھا۔

nusrat-post-2

nusrat-post-4

اپنے شوہراورجمہوریت کو بچانے کے لیے محترمہ نصرت بھٹو میدان عمل میں نکل آئیں اور اس جد وجہد میں کئی صعوبتیں برداشت کیں،قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سپاہیوں کے جوتوں اور بَٹوں سے لہو لہان ہوئیں تو کبھی جبری نظر بند ی کی سزا بھی بھگتی۔ تن تنہا بچوں کی کفالت اور بحالی جمہوریت کی تحریک کا بار اُٹھائے یہ خاتون اپنے شوہر کی پھانسی پر بھی کمال ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی جماعت کی باگ دوڑ سنبھالے رہیں۔

nusrat-post-6

یہ نصرت بھٹو کے عزم اور حوصلے اور تربیت کا مظہر ہی تھا کہ بھٹو کی بیٹی محترمہ بے نظیربھٹو اپنی جماعت کو دوبارہ پاؤں پر کھڑی کرنے میں کامیاب رہیں اور پاکستان کی سیاست میں بھٹو خاندان دوبارہ نظر آنے لگا اور ایک بار پھر وزارت عظمیٰ کینشست پر بھٹو کی صاحبزادی بے نظیر بھٹو براجمان ہوئیں۔

nusrat-post-3

تاہم یہ کامیابی بھی عارضی ثابت ہوئی اور محض دوسال بعد ہی محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت ختم کردی گئی ایک بار پھرپیپلز پارٹی پر برا وقت آیا تو نصرت بھٹو اپنی بیٹی کی ہمت بڑھانے میدان عمل میں آئیں، اپنے شوہر ذوالفقار بھٹو اور جواں سال بیٹے شاہنواز بھٹو کی ناگہانی موت جیسے دکھ کے پہاڑ اٹھانے والی خاتون اپنی بیٹی کے شانہ بشانہ کھڑی رہی۔

nusrat-post-1

یہاں تک کہ پیپلز پارٹی دوبارہ حکومت بنانے کے قابل ہو جاتی ہے اور ایک مرتبہ پھر بے نظیر بھٹو وزیراعظم بن جاتی ہیں لیکن اب بھی نصرت بھٹو کے دکھ کم نہ ہوئے اور اپنے دوسرے بیٹے میر مرتضی بھٹو کی ماورائے عدالت قتل کے بعد آہستہ آہستہ سیاست سے کنارہ کش ہو گئیں، اپنی بیٹی کے دور حکومت میں لخت جگر بیٹے کی لاش اُٹھانے والا صدمہ ذہنہ بیماری میں تبدیل ہو گیا اور وہ الزائمر کی مریضہ بن گئیں بعد ازاں بے نظیر حکومت ختم ہونے کے ان کے ہمراہ دبئی میں مقیم رہی لیکن ان کی حالت ابتر ہی ہوتی رہی۔

nusrat-post-5

یہاں تک کے اپنی بیماری کے باعث اپنی صاحبزادی بے نظیر بھٹوکی وطن واپسی اور شہادت کی خبر کا بھی انہیں ادراک نہیں رہا ،الزائمر کی مرض کی ،وجہ سے وہ قریبی رفقاء کو بھی نہیں پہچان پا رہی تھی اور روز مرہ کے معمولات سے بھی لا تعلق ہو گئی تھیں,عزم و ہمت کی تصویر لاچارگی کی مورت بن گئی تھیں اور پاکستان کی سابق خاتون اول بیگم نصرت بھٹو اتوار 23 اکتوبر کی دوپہر دبئی کے ایک اسپتال میں 82 برس کی عمر میں جہان فانی سے کوچ کر گئیں۔

nusrat-post-8

nusrat-post-7

اس وقت کے صدر پاکستان اور ان کے داماد آصف علی زرداری نے محترمہ نصرت بھٹو کی سیاسی جدو جہد اور وقت کے آمر کے سامنے ڈٹے رہنے پر مادر جمہوریت کے لقب سے نوازا جس کے بعد ہر سال نصرت بھٹو کی برسی کے موقع پر خصوصی دعائے فاتحہ اور تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں مرحومہ کی روح کے ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی کی جاتی ہے اور مادر جمہوریت کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے اس سلسلے میں مرکزی تقریب کا اہتمام نوڈیرو میں قائم شہید ذوالفقارعلی بھٹو کے مزار پر کیا جاتا ہے جہاں بے نظیر بھٹو شہید اور محترمہ نصرت بھٹو بھی مدفن ہیں۔

 

 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں