site
stats
اہم ترین

بہت ڈو مور کرلیا، اب دنیا ڈو مور کرے، آرمی چیف

راولپنڈی: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ افغانستان کی جنگ پاکستان میں نہیں لڑ سکتے، بہت ڈو مور کرلیا اب دنیا ڈو مور کرے،عالمی طاقتیں اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار ہمیں نہ ٹھہرائیں، بھٹکے ہوئے لوگوں کا عمل جہاد نہیں فساد ہے، جہاد ریاست کا حق ہے اسی کے پاس رہنا چاہیے،تعلیمی درس گاہوں، مدارس، پولیس اور قانون میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔

یہ بات انہوں نے یوم دفاع کے موقع پر جی ایچ کیو میں منعقدہ مرکزی تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہی۔

مرکزی تقریب جنرل ہیڈ کوارٹر (جی ایچ کیو) میں یادگارہ شہدا پر منعقد ہوئی جس میں تینوں مسلح افواج کے سربراہان، جوائنٹ چیف آف آرمی اسٹاف، سابق آرمی چیف راحیل شریف، چینی سفیر سی وی ڈونگ، ڈی جی آئی ایس پی آر آصف غفور، خواجہ آصف، ایاز صادق، خورشید شاہ، خرم دستگیر، احسن اقبال، مریم اورنگزیب، مشاہد اللہ ، عبدالقادر بلوچ، راجا ظفر الحق اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اس موقع پر شہید فوجیوں کے اہل خانہ کو بھی خصوصی طور پر مدعو کیا گیا تھا۔

جو قومیں اپنے شہدا کو بھول جائیں تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کرسکتی

آرمی چیف نے کہا کہ شہدائے وطن کے ورثا کا احسان مند ہوں کہ جن کے پیاروں کی بدولت آج ہم اس مقام پر ہیں، ان کا خون ہم پر قرض ہے، جو قومیں اپنے شہدا کو بھول جائیں تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کرسکتی، جو اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے ہمیشہ کے لیے امر ہوگئے ان شہدا کو فوج، عوام اور پورے پاکستان کی طرف سے سلام پیش کرتا ہوں۔

ہر بار فوجی اور سویلین نے وطن کی پکار پر ہمیشہ لبیک کہا

قمر باجوہ نے کہا کہ دفاع وطن ہمارا قومی امتیاز ہے، 1947ء سے لے کر آج تک فوجی اور سویلین نے وطن کی پکار پر ہمیشہ لبیک کہا ہے، جب تک بزرگوں کا حوصلہ اور جوانوں کی جرات برقرار ہے پاکستان کا کوئی نقصان نہیں کرسکتا، اس جذبے کا تعلق قومی ترقی کے ہر پہلو سے ہے۔

فوج دہشت گردوں کو ختم کرسکتی دہشت گردی نہیں

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قومی کا تعاون اور اس کی آگاہی بہت ضروری ہے، فوج دہشت گردوں کو تو ختم کرسکتی ہے لیکن دہشت گردی اور انتہا پسندی کو ختم کرنے کے لیے ہر شہری کو آپریشن رد الفساد کا سپاہی بننا ہو اور اس میں میڈیا اپنا کردار ادا کرے کیوں کہ یہ جنگ نظریاتی اور ذہنی بھی ہے، ہمیں چاہیے کہ ہم ایسا پاکستان تشکیل دیں جہاں طاقت کا استعمال آئین اور قانون کے مطابق صرف ریاست کے پاس ہو۔

یہ بھٹکے ہوئے لوگ ہیں، جو کچھ کررہے ہیں وہ جہاد نہیں فساد ہے

انتہا پسندوں کو مخاطب کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ میں بھٹکے ہوئے افراد سے کہتا ہوں کہ وہ جو کچھ کررہے ہیں وہ جہاد نہیں فساد ہے، ان کے طرز عمل سے ان کے وطن اور عوام کا سب سے زیادہ نقصان ہورہا ہے، ان کی لگائی ہوئی آگ کی قیمت  نہ صرف پورا پاکستان ادا کررہا ہے بلکہ دشمن ممالک بھی اس کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

جہاد ریاست کی ذمہ داری ہے یہ حق اسی کے پاس رہنا چاہیے

انہوں نے کہا کہ دین میں واضح حکم ہے کہ جہاد ریاست کی ذمہ داری ہے یہ اسی کا حق ہے اور یہ حق ریاست کے پاس ہی رہنا چاہیے۔

اپنے ایمان اور روایات کے لیے کسی سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں

قمر باجوہ کا کہنا تھا کہ لاالہٰ کے وارث ہونے پر ہمیں فخر ہے، سبز اور سفید دونوں رنگوں پر نازاں ہیں، اپنے ایمان اور اپنی روایات کے لیے ہمیں کسی کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں، یہ برداشت نہیں کہ کوئی بھی مذہب، ذات، فقہ یا لسانی بنیاد پر ہماری جڑیں کھوکھلی کرے، ان بنیادوں میں ہمارے شہدا کا خون شامل ہے ہم اس خون کی حرمت کا پاس کریں گے۔

ماضی میں بہت نقصان اٹھالیا، اب ترقی کا وقت ہے

آرمی چیف نے کہا کہ ہم نے ماضی میں بہت نقصان اٹھایا ، اب دشمن کی پسپائی اور ہماری ترقی و کامرانی کا وقت ہے، ہمارے دشمن کوئی حربہ آزمالیں ہم ہمیشہ متحد رہیں گے۔

تعلیمی درس گاہوں، مدارس، پولیس اور قانون میں اصلاحات ناگزیر ہیں

سیکیورٹی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہم بہت سی اصلاحات کے لیے حکومت اور قومی اداروں سے رابطے میں ہیں جن کے بغیر  نیشنل ایکشن پلان شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا ان میں تعلیمی درس گاہوں اور مدارس کی اصلاحات، پولیس کی اصلاحات اور دہشت گردوں کی سرکوبی کے لیے قانون میں اصلاحات شامل ہیں۔

تقریر کی مکمل ویڈیو

اب دنیا کو ڈو مور کرنا ہوگا

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی جنگ میں قربانیوں کے باوجود ہمیں کہا جارہا ہے کہ ہم نے کچھ ہیں کیا، اگر پاکستان نے کچھ نہیں کیا تو دنیا بھر میں کسی نے کچھ نہیں کیا، اتنے محدود وسائل میں اتنی بڑی کامیابی پاکستان کا ہی کمال ہے، آپریشن شیردل سے لے کر ، راہ نجات، راہ راست،   ضرب اور اب رد الفساد تک ہم نے قیمت اپنے لہو سے ادا کی ہے، اب دنیا کو ڈو مور کرنا ہوگا۔

مسلط کردہ جنگ کو انجام تک پہنچائیں گے

ان کا کہنا تھا کہ ہم پر مسلط کی گئی اس جنگ کو ہم منطقی انجام تک پہنچا کر دم لیں گے،   ملک میں امن قائم کیے بغیر سے نہیں بیٹھیں گے کیوں کہ یہ ہماری بقا کی جنگ ہے۔

عالمی طاقتیں اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار ہمیں نہ ٹھہرائیں

آرمی چیف نے کہا کہ عالمی طاقتیں اگر اس جنگ میں ہمارا ہاتھ مضبوط نہیں کرسکتیں تو اپنی ناکامیوں کا ہمیں ذمہ دار بھی نہ ٹھہرائیں، اگر ہم ناکام ہوئے تو یہ خطہ عدم استحکام کا شکار ہوجائے گا، ہم بلوچستان کے امن کو خراب کرنے والے دشمن کی تدابیر پر نظر رکھے ہوئے ہیں، ایسے عناصر سن لیں ہم ان کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں، ہر پاکستانی بلوچستان کے لیے خون دینے کو تیار ہے، ہمیں بلوچستان کے غیور عوام پر فخر ہے جنہوں نے دہشت گردوں اور علیحدگی پسندوں کو مسترد کردیا ہے۔

دشمن کا ایک مقصد سی پیک کو نشانہ بنایا ہے

ان کا کہنا تھا کہ دشمنوں کا ایک مقصد سی پیک کو نشانہ بنانا بھی ہے تاکہ پاکستان کے مستقبل کے ساتھ ساتھ پاک چین دوستی پر ضرب لگائی جائے۔

بھارت ہمارے پانیوں پر قبضے کا منصوبہ بناچکا

قمر باجوہ نے کہا کہ ہم دہشت گردی کے خلاف ہیں دنیا بھر کے تمام ممالک کے ساتھ عزت اور برابری کی بنیاد پر تعلقات چاہتے ہیں، کشمیر میں کھلی ناانصافی اور ہمیں دو لخت کرنے پر بھارت کا کردار سب کے سامنے ہے اور اب ان بھارتی کوششوں میں دہشت گردوں کی کھلی معاونت اور ہمارے پانیوں پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بھی اس میں شامل ہوچکا ہے۔

کشمیریوں کی جدوجہد ہماری در اندازی کی محتا ج نہیں

انہوں نے کہا کہ کشمیر یوں کی حالت زار پر دل گرفتہ ہیں، دونوں ممالک کے عوا م کی فلاح امن سے وابستہ ہے لیکن ایل او سی پر شہریوں کو نشانہ بنانے کا عمل بند کیا جائے، لاکھوں کشمیریوں کی پرامن جدوجہد پاکستان یا آزاد کشمیر سے در اندازی کی محتا ج نہیں، یہ ہندوستان کے اپنے مفاد میں ہے کہ وہ مسئلہ حل کرنے کے لیے پاکستان کے خلاف گالی اور کشمیریوں کے خلاف گولی کے بجائے سیاسی وسفارتی سطح پر بات کرے۔

جنوبی ایشیا میں نیوکلیئر ہتھیار ہم نہیں لائے

آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے، جنوبی ایشیا میں نیوکلیئر ہتھیار ہم نہیں لائے، اب بھی یہ مہلک ہتھیار ہمارے نزدیک طاقت کے نشے میں چور دشمن کی یلغار کے جواب میں امن کی ضمانت ہیں، یہی دشمن جنوبی ایشیا میں غیر روایتی جنگ لے کر آیا، سپر پاورز کی شروع کردہ جنگوں کی قیمت ہم نے دہشت گردی، انتہا پسندی اور اقتصادی نقصان کی صورت میں اد ا کی۔

افغانستان کی جنگ پاکستان میں نہیں لڑ سکتے

افغانستان کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ ہم نے افغانستان کو بھی اپنی بساط سے بڑھ کر سہارا دینے کی کوشش کی لیکن ہم افغانستان کی جنگ پاکستان میں نہیں لڑ سکتے، ہم نے بہت  نیک نیتی سے افغانستان میں مذاکرات اور امن کی کوشش کی ہے تاہم افغانستان ایک خود مختار ملک ہے جو اپنے فیصلوں میں آزاد ہے۔

افغان مہاجرین کی جلد اور باعزت واپسی کے لیے مدد کرنا چاہتے ہیں

ان کا کہنا تھا کہ اگر آج بھی افغان دھڑوں کا راستہ جنگ کی طرف جاتا ہے تو ہم اس جنگ کا حصہ نہیں بن سکتے تاہم ہم یہ ضرور کریں گے کہ مکمل غیر جانب داری کے لیے افغان مہاجرین کی جلد اور باعزت واپسی کے لیے مدد کریں اور اپنی بارڈر کی حفاظت کریں جس کے لیے پاک افغان سرحد پر 2600 کلو میٹر طویل بارڈ لگار ہے ہیں اور 900 سے زیادہ چیک پوسٹیں اور قلعے بھی تعمیر کررہے ہیں۔

مغربی سرحد کے پار پناہ لینے والے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی امید ہے

انہوں نے کہاکہ ہم امید کرتے ہیں کہ جن دہشت گردوں نے مغربی سرحد کے پار پناہ لے رکھی ہے ان کے خلاف کارروائی ہوگی۔

ہمارے سیکیورٹی معاملات کو بھی مد نظر رکھا جائے

قمر باجوہ نے کہا کہ امریکا کے ساتھ حالیہ تعلقات پر قوم کے جذبات سب کے سامنے ہیں، ہم امداد نہیں اعتماد چاہتے ہیں ہماری قربانیوں کو تسلیم کیا جائے، ہم نیٹو فورسز کے ہر اس اقدام کی حمایت کریں گے جس سے افغانستان اور خطے میں امن قائم ہو لیکن ہمارے سیکیورٹی معاملات کو بھی مد نظر رکھا جائے۔

قبل ازیں تقریب میں علاقائی لباس میں ملبوس بچوں نے ملی نغموں پر ٹیبلو پیش کیا، گلوکار عاطف اسلم نے ملی نغمہ گایا۔

ویڈیو دیکھیں

پاک فوج کے چاق و چوبند دستے نے روایتی پریڈ کا مظاہرہ کیا جسے دیکھ کر حاضرین نے انہیں داد اور پاک فوج کی پریڈ کو سراہا۔

ویڈیو دیکھیں

اس موقع پر تقریب میں آپریشن رد الفساد پر بنایا گیا ایک خصوصی گیت ’’ جب تک فساد ہے رد الفسار بھی رہے گا‘‘بھی حاضرین کو دکھایا گیا:

ویڈیو دیکھیں

تقریب میں بتایا گیا کہ شہدا کی بیوائیں زندگی کیسے گزارتی ہیں؟ اس موضوع پر ایک گیت دکھایا گیا جس نے عکاسی کی کہ کسی فوج کے شہید ہونے کے بعد اس کی بیوہ کو کن حالات کا سامنا کرنا پڑتا اور وہ کیسے صبر کرتی ہے، اس نغمے کو دیکھ کر حاضرین آب دیدہ ہوگئے۔

ویڈیو دیکھیں

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top