میڈرڈ (31 جولائی 2026) : مراکش سے 60 ہزار سے زائد تارکین وطن اسپین کے شہر سیوٹا میں غیرقانونی طور پر اچانک داخل ہوگئے، اس دوران سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 34 افراد مارے گئے۔
قطری میڈیا الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق مراکش کے سرحدی شہر فنیدیق میں جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب تقریباً 60 ہزار سے زائد تارکین وطن خشکی اور سمندری راستے سرحد عبور کرکے سیوٹا پہنچ گئے، تاہم سیکیورٹی فورسز کی سخت کارروائی کے بعد بیشتر افراد کو روک دیا گیا۔
واقعے کے بعد مقامی حکام نے ہسپانوی حکومت سے سیوٹا میں ایمرجنسی نافذ کرنے اور صورتِ حال پر قابو پانے کے لیے فوج بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے۔
سیوٹا کے مقامی صدر خوان خسوس ویواس نے جمعہ کو صحافیوں سے گفتگو میں 34افراد کی ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے تاہم انہوں نے اموات کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
رپورٹ کے مطابق سیوٹا اور میلیلا شمالی افریقہ میں اسپین کے دو خودمختار علاقے ہیں اور یہی یورپی یونین کی افریقہ کے ساتھ واحد زمینی سرحدیں ہیں، جہاں وقتاً فوقتاً تارکین وطن کی جانب سے یورپ پہنچنے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔
کارروائی کے دوران مراکشی حکام نے سرحدی گزرگاہوں پر سیکیورٹی مزید سخت کرتے ہوئے واٹر کینن گاڑیاں تعینات کیں اور سرحد کی جانب بڑھنے والے افراد کو پیچھے دھکیلا۔ اس دوران جھڑپوں میں ایک بس سمیت کم از کم 7 گاڑیاں نذرِ آتش ہوئیں۔
تارکین وطن میں خواتین اور بچوں سمیت مراکش اور صحارا افریقہ سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل تھے، جنہوں نے بار بار سرحد پار کرنے کی کوشش جاری رکھی۔
وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے اس غیر معمولی ہجرت کو اسپین کی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت سرحدی صورتحال پر مکمل توجہ دے رہی ہے اور اس ہفتے آنے والے تارکین وطن کو تیزی سے واپس مراکش بھیجنے کا عمل جاری ہے۔ اسپین کی وزارت داخلہ کے مطابق جمعہ تک 25 ہزار افراد کو واپس مراکش بھیجا جاچکا ہے۔
دوسری جانب ایک مراکشی خاتون 23 سالہ فاطمہ محلی نے رائٹرز کو بتایا کہ وہ اپنے شوہر اور دو بیٹیوں کے ساتھ سیوٹا جانا چاہتی تھیں لیکن ان کے شوہر علی الصبح سمندر کے راستے تیر کر سرحد پار کرنے کی کوشش کے لیے روانہ ہوگئے جبکہ وہ خود بچوں سمیت سرحد پر پھنس گئی ہیں۔
خاتون کا کہنا تھا کہ وہ پیدل سرحد عبور کرنا چاہتی تھیں مگر راستہ بند ہونے کے باعث اب واپس مراکش بھی نہیں جا سکتیں۔
یاد رہے کہ اسپین کی سوشلسٹ حکومت یورپ میں تارکین وطن کے حوالے سے نسبتاً نرم پالیسی رکھتی ہے اور حال ہی میں تقریباً 5 لاکھ غیر قانونی تارکین وطن کو قانونی حیثیت دینے کا پروگرام بھی شروع کیا گیا ہے، جس کے بعد درخواستوں کی تعداد اس ہدف سے بھی دوگنی ہوگئی ہے۔






