منگل, اکتوبر 6, 2026
اشتہار

اسپین کی سرحد پر 60 ہزار تارکین وطن اچانک ٹوٹ پڑے، 34 ہلاک

اشتہار

حیرت انگیز

میڈرڈ (31 جولائی 2026) : مراکش سے 60 ہزار سے زائد تارکین وطن اسپین کے شہر سیوٹا میں غیرقانونی طور پر اچانک داخل ہوگئے، اس دوران سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 34 افراد مارے گئے۔

قطری میڈیا الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق مراکش کے سرحدی شہر فنیدیق میں جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب تقریباً 60 ہزار سے زائد تارکین وطن خشکی اور سمندری راستے سرحد عبور کرکے سیوٹا پہنچ گئے، تاہم سیکیورٹی فورسز کی سخت کارروائی کے بعد بیشتر افراد کو روک دیا گیا۔

Spanish border in Ceuta

واقعے کے بعد مقامی حکام نے ہسپانوی حکومت سے سیوٹا میں ایمرجنسی نافذ کرنے اور صورتِ حال پر قابو پانے کے لیے فوج بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے۔

سیوٹا کے مقامی صدر خوان خسوس ویواس نے جمعہ کو صحافیوں سے گفتگو میں 34افراد کی ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے تاہم انہوں نے اموات کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

رپورٹ کے مطابق سیوٹا اور میلیلا شمالی افریقہ میں اسپین کے دو خودمختار علاقے ہیں اور یہی یورپی یونین کی افریقہ کے ساتھ واحد زمینی سرحدیں ہیں، جہاں وقتاً فوقتاً تارکین وطن کی جانب سے یورپ پہنچنے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔

border of Spain's Ceuta as migrants torch vehicles

کارروائی کے دوران مراکشی حکام نے سرحدی گزرگاہوں پر سیکیورٹی مزید سخت کرتے ہوئے واٹر کینن گاڑیاں تعینات کیں اور سرحد کی جانب بڑھنے والے افراد کو پیچھے دھکیلا۔ اس دوران جھڑپوں میں ایک بس سمیت کم از کم 7 گاڑیاں نذرِ آتش ہوئیں۔

تارکین وطن میں خواتین اور بچوں سمیت مراکش اور صحارا افریقہ سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل تھے، جنہوں نے بار بار سرحد پار کرنے کی کوشش جاری رکھی۔

attempting to reach spain

وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے اس غیر معمولی ہجرت کو اسپین کی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت سرحدی صورتحال پر مکمل توجہ دے رہی ہے اور اس ہفتے آنے والے تارکین وطن کو تیزی سے واپس مراکش بھیجنے کا عمل جاری ہے۔ اسپین کی وزارت داخلہ کے مطابق جمعہ تک 25 ہزار افراد کو واپس مراکش بھیجا جاچکا ہے۔

دوسری جانب ایک مراکشی خاتون 23 سالہ فاطمہ محلی نے رائٹرز کو بتایا کہ وہ اپنے شوہر اور دو بیٹیوں کے ساتھ سیوٹا جانا چاہتی تھیں لیکن ان کے شوہر علی الصبح سمندر کے راستے تیر کر سرحد پار کرنے کی کوشش کے لیے روانہ ہوگئے جبکہ وہ خود بچوں سمیت سرحد پر پھنس گئی ہیں۔

خاتون کا کہنا تھا کہ وہ پیدل سرحد عبور کرنا چاہتی تھیں مگر راستہ بند ہونے کے باعث اب واپس مراکش بھی نہیں جا سکتیں۔

People gather by spains border

یاد رہے کہ اسپین کی سوشلسٹ حکومت یورپ میں تارکین وطن کے حوالے سے نسبتاً نرم پالیسی رکھتی ہے اور حال ہی میں تقریباً 5 لاکھ غیر قانونی تارکین وطن کو قانونی حیثیت دینے کا پروگرام بھی شروع کیا گیا ہے، جس کے بعد درخواستوں کی تعداد اس ہدف سے بھی دوگنی ہوگئی ہے۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں