The news is by your side.

Advertisement

بیٹی کی موت کے بعد والدین نے لاش کی تدفین کیوں نہیں کی؟

جکارتہ: انڈونیشیا میں بیٹی کی بیماری سے موت کے بعد ماں باپ نے بیٹی کی لاش کو دو ماہ تک گھر میں رکھا۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق انڈونیشیا میں رہنے والے ایک جوڑے کو بیٹی کو کھونے کا غم جھیلنا پڑا لیکن اس کے بعد انہوں نے بیٹی کی لاش کو دو ماہ تک اس کے واپس زندہ ہونے کی امید پر رکھ لیا۔

اپنی بیٹی کو کھو دینے کی بات پر جوڑے کو یقین نہیں ہوپارہا تھا انہوں نے اس بات کو ماننے سے انکار کردیا کہ اب ان کی بیٹی اس دنیا میں نہیں ہے ۔ اس کے بعد جوڑے نے بیٹی کی لاش کو دو مہینے تک اپنے گھر میں رکھا۔

رپورٹ کے مطابق جب دو مہینے سڑنے کے بعد لاش کی بدبو سے پڑوسیوں کا جینا محال ہوگیا تب جاکر یہ معاملہ سامنے آیا اور انہوں نے لاش کی آخری رسومات ادا کروائی۔

یہ واقعہ انڈونیشیا کے سینٹرل جاوا کے پلکرن گاوں میں پیش آیا گھر سے آتی تیز بدبو کے بعد گاوں والوں نے گھر کی تلاشی کا فیصلہ کیا جس میں انہیں دو مہینے سے سڑتی بچی کی لاش ملی۔

14 سال کی بچی کی موت ٹی بی کی وجہ سے ہوئی تھی لیکن اس کے ماں باپ کو یقین نہیں ہوپارہا تھا کہ ان کی بیٹی اب زندہ نہیں ہے اس کی وجہ سے انہوں نے اپنی بیٹی کی لاش کی آخری رسوم ادا نہیں کیں۔

جب معاملہ سامنے آیا تب یہ معلوم ہوا کہ بچی کے ماں باپ نے اس کے زندہ ہونے کیلئے دعا بھی کروائی تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں