The news is by your side.

Advertisement

دریائی گھوڑوں سے متعلق نئی تحقیق میں حیران کُن انکشافات

دریائی گھوڑوں کو جھیلوں اور دریاؤں کے درمیان سفر کے دوران بہت زیادہ شور مچانے والی مخلوق تصور کیا جاتا ہے لیکن اس جانور کی خرخراہٹ کے ساتھ سانس لینے کی بلند آواز ابھی ماہرین حیاتیات کے لیے ایک معمہ ہے۔

تاہم اب دریائی گھوڑوں پر ہونے والی نئی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ دریائی گھوڑے آواز کی بنیاد پر اپنے دوست اور دشمن میں فرق کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ایک حالیہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ دریائی گھوڑے اس منفرد آواز کا استعمال اپنے دوستوں کو کسی خطرے سے خبردار کرنے کے لیے کرتے ہیں۔

افریقا کے نیچر ریزور میں فرانس کی سینٹ ایٹینی یونیورسٹی کی جانب سے دریائی گھوڑوں پر ہونے والی تحقیق سے اس بات کا بھی انکشاف ہوا کہ یہ جانور دوست اور دشمن کی آواز میں فرق کرنے کے صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

اس تحقیق کے سربراہ پروفیسر نکولس مییتھیون کا کہنا ہے کہ دریائی گھوڑوں کے پاس آوازوں کا ذخیرہ ہوتا ہے یہ اونٹ کی طرح بلبلانے، دھونکنی، چیخنے چلانے اور خرخراہٹ کے ساتھ سانس لینے کی آواز نکال سکتے ہیں۔ اور ان آوازوں کی بنیاد پر وہ ایک دوسرے کی شناخت کرتے ہیں۔

سفر کے دوران یہ کسی بیرونی خطرے کی صورت میں ’ ویز ہونکس‘ کے ساتھ اپنے ساتھ چلنے والے دیگر دریائی گھوڑوں کو خطرے کا سگنل بھیجتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں