The news is by your side.

Advertisement

شہری کا ایک سال قبل پنشن لینے کیلیے حیران کُن اقدام

سوئٹزرلینڈ میں شہری نے ایک سال قبل پنشن لینے کے لیے دستاویزات میں اپنی جنس ہی تبدیل کروادی۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق سوئٹزرلینڈ میں یکم جنوری سے ایک نیا قانون نافذ ہوا ہے جس کے تحت ملک کا کوئی بھی شہری جسے یہ یقین ہو کہ وہ سول اسٹیٹس میں رجسٹر اپنی جنس سے تعلق نہیں رکھتا ہے اور وہ اپنی جنس کی تبدیلی کے ساتھ اپنے نام کا پہلا حصہ بھی تبدیل کرنا چاہتا ہے تو وہ صرف 75 فرانکس ادا کرکے ایسا کرنے کا اہل ہوگا۔

تکنیکی طور پر ملک میں ایسے قواعد وضوابط موجود ہیں جو کہ کسی فرد کو غلط مقاصد کے لیے اس نئے قانون کا فائدہ اٹھانے سے روکتے ہیں لیکن سول سرونٹس پر ایسی کوئی ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ ایسا کرنے والے شخص کی اس حوالے سے یقین کی تصدیق کرسکے اور عمومی طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس نے ایسا نیک نیتی سے کیا ہے۔

اس قانون سے فائدہ اٹھانے والے شخص نے یہ بات تسلیم کی کہ اس نے صرف مالی فوائد کے لیے ایسا کیا اور وہ نہیں چاہتا کہ اسے خاتون کے طور پر شناخت کیا جائے۔

اس سے قبل نومبر 2021 میں وزارت قانون کے ایک عہدیدار نے اس قسم کی صورتحال سے اعلیٰ حکام کو آگاہ کیا تھا۔

اب لوگوں نے اس قانون میں موجود دیگر نقائص کی نشاندہی شروع کردی ہے، بشمول اس امکان کے اب نوجوان لازمی فوجی سروس سے بچنے کے لیے بھی اس کا استعمال کریں گے۔

واضح رہے کہ سوئٹزرلینڈ میں خواتین قانونی طور پر 64 سال کی عمر میں ریٹائر ہوسکتی ہیں، جبکہ مردوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر 65 سال ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں