The news is by your side.

Advertisement

کرونا کی ڈیلٹا قسم میں‌ ایک اور تبدیلی ہونے کا انکشاف، پریشان کن خبر

ٹوکیو: جاپان کے تحقیق اور طبی ماہرین نے کرونا کی ڈیلٹا قسم میں ایک اور تبدیلی دریافت کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

جاپانی میڈیا رپورٹ کے مطابق ٹوکیو میڈیکل اینڈ ڈینٹل یونیورسٹی اسپتال کے ماہرین کرونا کی تغیر شدہ اقسام کے حوالے سے تحقیقی مطالعہ کررہے تھے کہ اس دوران انہیں ڈیلٹا ویریئنٹ میں ایک نئی تبدیلی نظر آئی۔

پروفیسر تاکے اُچی ہیروآ کی سربراہی میں تحقیقات کرنے والی ٹیم نے ڈیلٹا ویئرنٹ میں ہونے والی تبدیلی تلاش اور دریافت کرنے کا دعویٰ پیر کے روز کیا۔

تحقیقی گروپ نے بتایا کہ ’ڈیلیٹا میں ہونے والی تبدیلی اُس مریض میں پائی گئی، جسے ڈیلیٹا سے متاثر ہونے کے بعد اگست کے وسط میں اسپتال لایا گیا تھا۔

ڈاکٹرز نے بتایا کہ ’اس مریض کے جینیاتی تجزیے میں یہ بات سامنے آئی کہ مریض N501S قسم سے بھی متاثر ہے۔

مزید پڑھیں: موڈرنا اور فائزر ویکسینز سے ڈیلٹا وائرس کا سدباب کس حد تک ممکن ہے؟؟

یہ بھی پڑھیں: کراچی: ڈیلٹا ویرینٹ کے شکار ذہنی و جسمانی معذور بچے مکمل صحت یاب

تحقیقی ٹیم کے سربراہ نے بتایاکہ اب تک کرونا کی اس والی قسم کے دنیا میں صرف 8 کیسز سامنے آئے ہیں، N501S سب سے پہلے برطانیہ میں دریافت  ہوئی، جو الفا یعنی N501Y سے مشابہت رکھتی ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ کرونا کی نئی دریافت ہونے والی قسم کس قدر تیزی سے پھیلنے یا نہ پھیلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ماہرین نے N501S پر مزید تحقیق کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پروفیسر تاکے اُچی نے کہا ہے کہ وائرس پر قابو پانے کیلئے مکمل کوششیں کی جانی چاہیئں کیونکہ انفیکشن کا مزید پھیلاؤ ملک میں نئی متغیر اقسام کے پھیلنے کا سبب بن سکتا ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ وائرس کی نگرانی کو سخت کرنے کے لیے جینیاتی تجزیے بھی استعمال کرے تاکہ روک تھام یقینی ہوسکے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں