The news is by your side.

Advertisement

پاکستانی کوہ پیماؤں نے دنیا کی پانچویں بلند ترین چوٹی سر کرلی

پاکستانی کوہ پیماؤں شہروز کاشف اور سرباز علی نے دنیا کی پانچویں بلند ترین چوٹی ’ماؤنٹ مکالو‘ سر کرلی۔

تفصیلات کے مطابق بیس سالہ شہروز کاشف دنیا کی پانچ بلند ترین چوٹیاں سر کرنے والے کم عمر ترین پاکستانی کوہ پیما بن گئے جبکہ سرباز علی بھی 8 ہزار میٹر بلند گیارہ چوٹیاں سر کرنے والے واحد پاکستانی بن گئے ہیں۔

شہروز کاشف آٹھ ہزار میٹر سے بلند سات چوٹیاں سر کرچکے ہیں وہ اس سے قبل ماؤنٹ ایوریسٹ اور کے ٹو بھی سر کرچکے ہیں۔

شہروز نے اس ہی ماہ تیسری بلند ترین چوٹی کنچن جونگا اور چوتھی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ لوٹسےکو بھی سر کیا تھا۔

،مزہد پڑھیں: کوہ پیما شہروز کاشف نے دنیا کی تیسری بلند ترین چوٹی سر کرلی

اس سے قبل 33 سالہ سرباز علی نے بھی ماؤنٹ ایوریسٹ، کے ٹو ، کینچنُ جونگا، لوٹسے، داولاگیری، مناسلو، نانگا پربت، اناپورنا، براڈ پیک اور گیشربرم ٹو سر کرچکے ہیں۔

شہروز نے ماؤنٹ ایورسٹ (8848 میٹر)، براڈ پیک (8047 میٹر) کے علاوہ مکڑا پیک (3885 میٹر)، موسی کا مصلہ (4080 میٹر) چمبرا پیک (4600 میٹر)، منگلک سر (6050 میٹر)، گوندوگرو لا پاس (5585 میٹر)، خوردوپن پاس (5800) اور کہسار کنج (6050 میٹر) کو بھی سر کر رکھا ہے۔

سنہ 1953 میں ایک امریکی کوہ پیما نے اس خوبصورت پہاڑ کو ’سیویج ماؤنٹین‘ یعنی خونی پہاڑ کا نام دیا تھا، آٹھ ہزار میٹر سے بلند 14 چوٹیوں میں کے ٹو پر ہونے والی اموات کی شرح سب سے زیادہ ہے جسے سر کرنے کی کوشش کرنے والے اوسطاً ہر چار میں سے ایک کوہ پیما کی موت واقع ہو جاتی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں