The news is by your side.

ام رباب انصاف کے حصول کے لیے آئینہ اٹھا لائیں

سکھر: رپورٹ (سحرش کھوکھر): دادو سے تعلق رکھنے والی ام رباب اپنے والد، دادا اور چچا کے قتل کیس میں تاحال انصاف کی منتظر ہیں اور انصاف کے حصول کے لیے وہ آئینہ بھی اٹھالائیں۔

سندھ کے ضلع دادو کی تحصیل مہیڑ میں تین سال قبل مسلح افراد نے فائرنگ کر کے ایک ہی خاندان کے تین افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔

ام رباب کا دعویٰ ہے کہ اُن کے والد، دادا اور چچا کو پاکستان پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے اراکین صوبائی اسمبلی نے قتل کروایا۔

وہ اس وقت شہہ سرخیوں میں آئی تھیں جب انہوں نے تہرے قتل کیس میں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج نہ ہونے پر ننگے پاؤں دادو کی مقامی عدالت آئیں تھی بعدازاں واقعے کا مقدمہ درج کرلیا گیا تھا۔

اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ام رباب نے کہا کہ ’پانچ سالوں سے میں انصاف کے لیے جنگ لڑ رہی ہوں، میرے والد، دادا، اور چچا کو بے دردی سے قتل کیا گیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’میں صرف انصاف چاہتی ہوں اور آئینہ اس لیے لے کر آئی ہوں کہ یہ آئینہ سوال کرتا ہے کہ کیا اس ملک میں انصاف مل سکتا ہے۔‘

ام رباب کا کہنا تھا کہ ’انصاف کے حصول کے لیے پانچ یا دس سال لگیں وہ اپنی جنگ جاری رکھیں گی۔‘

Comments

یہ بھی پڑھیں