پاکستان کے پہلے وزیراعظم شہید ملت لیاقت علی خان کی 67 ویں برسی
The news is by your side.

Advertisement

پاکستان کے پہلے وزیراعظم شہید ملت لیاقت علی خان کی 67 ویں برسی

کراچی : پاکستان کے پہلے وزیراعظم شہید ملت خان لیاقت علی خان کی 67 ویں برسی آج منائی جارہی ہے، ان کے قتل کا معمہ آج تک حل نہ ہوسکا۔

آج سولہ اکتوبر کا وہ افسوسناک دن ہے، جب ملک کے پہلے وزیرِاعظم کوقتل کر دیا گیا مگر اب تک عوام اس قتل کے محرکات سے لاعلم ہے۔

لیاقت علی خان یکم اکتوبر اٹھارہ سو چھیانوے میں مشرقی پنجاب کے ضلع کرنال میں پیدا ہوئے اور 1918 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد آکسفورڈ یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے برطانیہ چلے گئے۔

1922 میں انگلینڈ بار میں شمولیت اختیار کی اور 1923 میں ہندوستان واپس آئے اور مسلم لیگ میں شامل ہوئے، 1936 میں آپ مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل بنے، آپ قائد اعظم محمد علی جناح کے دست راست تھے۔

پاکستان کے قیام میں نوابزادہ لیاقت علی خان کا کردار سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے ، انیس سو تینتیس میں بیگم رعنا لیاقت علی خان سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے، قائد ملت لیاقت علی خان برٹش حکومت کی عبوری حکومت کے پہلے وزیرِ خزانہ بھی منتخب ہوئے۔

انیس سو اڑتالیس میں قائد اعظم محمد علی جناح کی وفات کے بعد لیاقت علی خان ملک کے پہلے وزیرِاعظم کے طور پر قوم کے نگہبان بنے۔

لیاقت علی خان کو سولہ اکتوبر انیس سو اکیاون کو راولپنڈی میں اس وقت شہید کر دیا گیا تھا جب وہ کمپنی باغ میں ایک جلسہ عام سے خطاب کیلئے ڈائس پر پہنچے اور اس دوران سید اکبر نامی شخص نے ان پر ریوالور سے گولیاں برسانا شروع کردیں، وزیرِاعظم کو فوری فوجی ہسپتال پہنچایا گیا مگر وہ شہید قرار دے دیئے گئے۔

ان کے آخری الفاظ تھے “خدا پاکستان کی حفاظت کرے‘‘۔

شہیدِ ملت لیاقت علی خان کے قاتل سید اکبر کو پولیس کے ایک سب انسپکٹر محمد شاہ نے گولیوں سے اڑا دیا اور یوں شہید ملت کے قتل کا راز ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا گیا۔

لیاقت علی کان کو سترہ اکتوبرانیس سو اکیاون کو قائداعظم محمد علی جناح کے مزار کے احاطے میں دفن کردیا گیا اور اس عظیم رہنما کی یاد میں راولپنڈی کے کمپنی باغ کو ’’لیاقت باغ‘‘ کے نام سے منسوب کر دیا گیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں