The news is by your side.

Advertisement

شہید ملت لیاقت علی خان کی 68 ویں برسی آج منائی جا رہی ہے

کراچی : پاکستان کے پہلے وزیراعظم شہید ملت خان لیاقت علی خان کی 68 ویں برسی آج منائی جارہی ہے، ان کے قتل کا معمہ آج تک حل نہ ہوسکا۔

آج سولہ اکتوبر کا وہ افسوسناک دن ہے، جب ملک کے پہلے وزیرِاعظم کوقتل کر دیا گیا مگر اب تک عوام اس قتل کے محرکات سے لاعلم ہیں۔

لیاقت علی خان یکم اکتوبر 1896میں مشرقی پنجاب کے ضلع کرنال میں پیدا ہوئے اور 1918 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد آکسفورڈ یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے برطانیہ چلے گئے۔

1922 میں انگلینڈ بار میں شمولیت اختیار کی اور 1923 میں ہندوستان واپس آئے اور مسلم لیگ میں شامل ہوئے، 1936 میں آپ مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل بنے، آپ قائد اعظم محمد علی جناح کے دست راست تھے۔

پاکستان کے قیام میں نوابزادہ لیاقت علی خان کا کردار سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے ، 1933 میں بیگم رعنا لیاقت علی خان سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے، قائد ملت لیاقت علی خان برٹش حکومت کی عبوری حکومت کے پہلے وزیرِ خزانہ بھی منتخب ہوئے۔

انیس سو اڑتالیس میں قائد اعظم محمد علی جناح کی وفات کے بعد لیاقت علی خان ملک کے پہلے وزیرِاعظم کے طور پر قوم کے نگہبان بنے۔

لیاقت علی خان کو سولہ اکتوبر 1951 کو راولپنڈی میں اس وقت شہید کر دیا گیا تھا جب وہ کمپنی باغ میں ایک جلسہ عام سے خطاب کیلئے ڈائس پر پہنچے اور اس دوران سید اکبر نامی شخص نے ان پر ریوالور سے گولیاں برسانا شروع کردیں، وزیرِاعظم کو فوری فوجی ہسپتال پہنچایا گیا مگر وہ شہید قرار دے دیئے گئے۔

ان کے آخری الفاظ تھے “خدا پاکستان کی حفاظت کرے‘‘۔

شہیدِ ملت لیاقت علی خان کے قاتل سید اکبر کو پولیس کے ایک سب انسپکٹر محمد شاہ نے گولیوں سے اڑا دیا اور یوں شہید ملت کے قتل کا راز ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا گیا۔

لیاقت علی کان کو سترہ اکتوبر1951 کو قائداعظم محمد علی جناح کے مزار کے احاطے میں دفن کردیا گیا اور اس عظیم رہنما کی یاد میں راولپنڈی کے کمپنی باغ کو ’’لیاقت باغ‘‘ کے نام سے منسوب کر دیا گیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں