!یارانِ جہاں کہتے ہیں کشمیر ہے جنت -
The news is by your side.

Advertisement

!یارانِ جہاں کہتے ہیں کشمیر ہے جنت

کشمیر جسے جنت نظیر وادی کہا جاتا ہے اپنے اندر بے پناہ حسن سمیٹے ہوئے ہے۔ یہاں نہ صرف قدرتی حسن کی فراوانی ہے بلکہ انسانی ہاتھوں نے بھی یہاں جو تعمیرات کی ہیں وہ قدرتی مناظر کے ساتھ مل کر فن تعمیر کا شاہکار نظر آتی ہیں۔

یہاں ہم آپ کو کشمیر کے چند ایسے ہی خوبصورت مقامات کی سیر کروا رہے ہیں جو بھارتی بربریت اور ظلم کے باعث دنیا کی نگاہوں سے اوجھل ہیں اور بہت کم پاکستانی ان کے بارے میں جانتے ہیں۔

:امر محل

2

راجہ امر سنگھ کی یہ رہائش گاہ انیسویں صدی میں فرانسیسی ماہرین تعمیرات نے تیار کی تھی۔ اس محل کو اب میوزیم میں تبدیل کردیا گیا ہے۔

:شے خانقاہ

7

سنہ 1655 میں یہ خانقاہ لداخ کے راجہ دیلدان نام گیال نے تعمیر کروائی۔ اس خانقاہ کی مناسب دیکھ بھال نہیں کی گئی جس کے باعث اب یہ کھنڈرات میں تبدیل ہو چکی ہے۔

:شیر گڑھی محل

3

شیر گڑھی محل یا ’شیروں کا قلعہ‘ افغان گورنر جوان شیر خان کے نام پر سنہ 1772 میں تعمیر کیا گیا۔

:مبارک ماندی محل

1

ڈوگرا راج کے مہاراجہ ہری سنگھ کا تعمیر کردہ یہ محل ایک طویل عرصہ تک ان کی رہائش گاہ رہا۔

:گلاب بھون

5

سنہ 1910 میں اس محل کو مہاراجہ پرتاپ سنگھ نے تعمیر کروایا۔ اس کے بعد ان کے جانشین ہری سنگھ نے اس کی مزید سجاوٹ و آرائش کی۔

:لیہہ محل

6

کشمیر کے ضلع لیہہ میں سترہویں صدی میں تعمیر کیا جانے والا یہ محل راجہ سنگے نام گیال نے تعمیر کروایا۔

:ہری نواس محل

4

کشمیر پر حکومت کرنے والے آخری راجہ ہری سنگھ کی رہائش گاہ ہری نواس محل۔ یہ محل بیسویں صدی میں تعمیر کیا گیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں