The news is by your side.

Advertisement

مشال قتل کیس، یونیورسٹی کے سات ملازمین کو معطل کردیا گیا

مردان : عبد الولی خان یونیورسٹی کی انتظامیہ نے مشال خان قتل کیس میں یونیورسٹی کے 7 ملازمین کو معطل کر کے تنخواہیں روکنے کا حکم جاری کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق عبد الولی خان یونیورسٹی مردان کی انتظامیہ نے مشال خان قتل کیس کی تفتیش مکمل ہونے تک سات ملازمین کو معطل کردیا ہے اور ان ملازمین کی تنخواہیں بھی روک دی گئی ہیں۔


*مشال کو مارنے کے لیے یونیورسٹی انتظامیہ نے کہا، مرکزی ملزم کا اعتراف


ذرائع کے مطابق معطل کیے گئے ملازمین میں سپرنٹنڈنٹ افسرخان، اسٹورکیپرشہزاد، اسسٹنٹ اجمل، سینئرکلرک حنیف احمد آفس اسسٹنٹ انس علی،علی خان اور نواب علی شامل ہیں جنہیں ویڈیوز دیکھ کر شناخت کیا گیا ہے۔

معطل کیے گئے سات ملازمین میں سے تین کو پہلے ہی حراست میں لیا جا چکا ہے جب کہ بقیہ ملازمین کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور جلد ہی ان ملازمین کی گرفتاری بھی متوقع ہے۔


میرے بیٹے کو بے رحمی سے قتل کیا گیا، مشال کی والدہ*


یاد رہے کہ 13 اپریل کو عبدالولی یونیورسٹی مردان میں ایک مشتعل ہجوم نے طالب علم مشال خان پر اہانت مذہب کا الزام لگا کر بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا اور اسے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔

اس پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس میاں ثاقب نثار نے بھی مشال خان کے بہیمانہ قتل کا از خود نوٹس لیتے ہوئے آئی جی خیبر پختونخوا کو 36 گھنٹے میں تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی تھی۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں