معذور بچی کی مصنوعی ٹانگ کا اسکول میں پرجوش استقبال -
The news is by your side.

Advertisement

معذور بچی کی مصنوعی ٹانگ کا اسکول میں پرجوش استقبال

برطانیہ کی ایک 7 سالہ معذور بچی جب اپنی نئی مصنوعی ٹانگ کے ساتھ پہلی بار اسکول پہنچی تو اس کے ساتھی اس کی ٹانگ دیکھ کر بے حد پرجوش ہوئے اور خوشی کا اظہار کیا۔

برمنگھم کی رہائشی 7 سالہ انو کو اپنی پیدائش کے تھوڑے عرصے بعد اپنی ایک ٹانگ سے محروم ہونا پڑا تھا۔ ماں کے پیٹ میں اس کی غذائی نال نے اس کی ٹانگ کو سختی سے جکڑ لیا تھا جس سے ٹانگ کو خون کی فراہمی معطل ہوگئی۔

دنیا میں آجانے کے تھوڑے ہی دن بعد ڈاکٹرز نے اس کی ناکارہ ٹانگ کو کاٹ دیا اور انو اسی معذوری کے ساتھ پرورش پا رہی تھی۔

مزید پڑھیں: معذور بلیوں کے لیے مصنوعی پاؤں تیار

اتنے عرصے سے وہ مصنوعی ٹانگ استعمال تو کر رہی تھی تاہم وہ ٹانگ صرف اسے چلنے میں مدد دیتی تھی۔

اب ماہرین نے اس کے لیے خصوصی نئی ٹانگ تیار کی ہے جو اس کو بھاگنے دوڑنے اور مختلف کھیلوں میں حصہ لینے میں مدد دے گی۔

جب اس نئی ٹانگ کے ساتھ وہ اسکول پہنچی تو اس کے ننھے دوست اسے دیکھ کر نہایت پرجوش ہوگئے۔

ایک بچی نے نہایت اشتیاق سے پوچھا، ’کیا یہ تمہاری نئی گلابی ٹانگ ہے؟‘

جب ان ننھے بچوں کو پتہ چلا کہ اب انو ان کے ساتھ کھیل اور بھاگ دوڑ سکتی ہے تو انہوں نے خوشی کے مارے اسے گلے لگا لیا۔

انو کو یہ نئی ٹانگ برطانیہ کے قومی صحت کے پروگرام کے تحت مل سکی ہے جس نے رواں برس 500 معذور بچوں کو مصنوعی اعضا کی فراہمی کے لیے 19 لاکھ ڈالرز کا بجٹ مختص کیا ہے۔

یہ مصنوعی ٹانگ ہر 2 سے 3 سال بعد تبدیل کی جانی ضروری ہے۔

انو اس نئی ٹانگ کو پا کر بہت خوش ہے اور مزے سے کھیل کود رہی ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں