The news is by your side.

Advertisement

پنجاب میں 70 کالعدم تنظیمیں آزادانہ کام کررہی ہیں، میاں افتخار حسین

اسلام آباد: عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ پنجاب میں دہشت گردی خطرناک حد تک بڑ چکی ہے، نیشنل ایکشن پلان کے باجود لاہور میں تاحال 70 کالعدم تنظیمیں آزادانہ کام کررہی ہیں، پاکستان میں امن قائم کرنے کے لیے پنجاب میں بلاامتیاز آپریشن کی ضرورت ہے۔

پرانی سبزی منڈی دھماکے کے زخمیوں کی عیادت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اے این پی کے مرکزی رہنما نے کہا کہ پوری قوم چیخ رہی ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کیا جائے مگر پنجاب میں آج بھی 70 کالعدم تنظیمیں متحرک ہیں اور آزادانہ چندہ جمع کررہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں معصوم لوگوں کا خون بہہ رہا ہے مگر حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کررہی اور نہ ہی پنجاب میں دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جارہی۔

میاں افتخار حسین نے مطالبہ کیا کہ عوام کو بتایا جائے کہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کیوں نہیں کیا جارہا اور کالعدم جماعتوں کے خلاف کارروائی میں کون رکاوٹ کھڑی کررہا ہے؟ ۔ انہوں نے کہا کہ جب تک پنجاب سے دہشت گردوں کا صفایا نہیں کیا جائے گا ملک سے دہشت گردی ختم نہیں ہوگی۔

اے این پی رہنماء نے کہا کہ بیٹے کے قاتل نے خود اعتراف کیا کہ اُس نے پنجابی شخص سے تربیت حاصل کی، اگر دہشت گردوں کے درمیان اچھے اور برے کی تفریق کو ختم نہ کیا گیا تو ملک بڑے مسائل سے دوچار ہوسکتا ہے، آج بھی وقت ہے دہشت گردوں کے درمیان قائم کی جانے والی تفریق کو ختم کر کے سخت کارروائی کی جائے۔

پاناما کیس پر تبصرہ کرتے ہوئے میاں افتخار حسین نے کہا کہ ایسا لگ رہا ہے پاناما ہی ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے، حکومت اور اپوزیشن کو سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں