The news is by your side.

Advertisement

شام کے الھول کیمپ میں 70 ہزار افراد غیر انسانی حالات میں رہ رہے ہیں،اقوام متحدہ

نیویارک: برطانوی غیر سرکاری تنظیم سیودی چلڈرن کا کہنا ہے کہ کیمپ میں پانچ سال سے کم عمر تیس فی صد بچوں کا طبی معائنہ کیاگیا، وہ کم خوراکی کا شکار ہیں۔

تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ شام میں واقع الھول کیمپ میں ستر ہزار سے زیادہ افراد کو غیر انسانی صورت حال میں رکھا جارہا ہے، ان میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔

الھول کیمپ شام کے شمال مشرقی علاقے میں بے گھر ہونے والے افراد کے لیے قائم کیا گیا تھا اور یہ امریکا کی حمایت یافتہ شامی جمہوری فورسز ( ایس ڈی ایف) کی شہری انتظامیہ کے زیراہتمام ہے،اس کیمپ کے مکینوں نے اس کو انسانی جہنم زار قرار دیا ہے، اس کیمپ میں بنیادی انسانی ضروریات اور ادویہ بھی دستیاب نہیں ہیں۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق برطانیہ کی غیر سرکاری تنظیم سیو دا چلڈرن نے ایک رپورٹ میں بتایاکہ اس کیمپ میں مقیم پانچ سال سے کم عمر قریباً تیس فی صد بچوں کا فروری کے بعد طبی معائنہ کیا گیا ہے اور وہ کم خوراکی کا شکار ہیں۔

عالمی خوراک پروگرام کا کہنا تھا کہ اس نے اس کیمپ میں پانی کی کمی اور ہیضے کے سیکڑوں کیس ریکارڈ کیے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق اس الھول میں پیدا ہونے والے بیشتر بچوں کے ناموں اور تاریخ پیدائش کا کہیں اندراج نہیں کرایا گیا اور وہ کسی رجسٹریشن کے بغیر ہی ہیں،اس کیمپ کے ستر ہزار سے زیادہ مکینوں میں عراقی، شامی اور دوسرے افراد شامل ہیں، ان میں سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے ہزاروں حامی بھی ہیں۔

ایس ڈی ایف نے انھیں داعش کے زیر قبضہ علاقوں سے گرفتار کیا تھا یا انھوں نے لڑائی میں شکست سے دوچار ہونے کے بعد ہتھیار ڈال دیے تھے اور پھر انھیں ان کے بیوی بچوں سمیت اس کیمپ میں ڈال دیا گیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں