7 کروڑ پچاس لاکھ سال قدیم پرندے کی باقیات دریافت -
The news is by your side.

Advertisement

7 کروڑ پچاس لاکھ سال قدیم پرندے کی باقیات دریافت

انقرہ: سائنسی ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے 7 کروڑ پچاس لاکھ قدیم کرہ ارض پرندے کی ہڈیاں اور پٹھے دریافت کرلیے جو اُن کو اڑنے میں مدد فراہم کرتے تھے۔

تفصیلات کے مطابق اب تک سائنسی ماہرین نے ’ڈائناسور‘ کو کرہ ارض پر رہنے والا سب سے قدیم جانور قرار دیا تھا مگر حال ہی میں ہونے والی دریافت کو ماہرین بہت بڑی دریافت قرار دے رہے ہیں۔

 ماہرین کا کہنا ہے کہ پرندے کے برآمد ہونے والی قدیم باقیات کا شمار جدید پرندوں میں کیا جاسکتا ہے کیونکہ انسان نے ممکنہ طور پر اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے فضا میں اڑنے کا منصوبہ ترتیب دیا ہو۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب سے ایک لاکھ سال قدیم آثاردریافت

سائنسی ماہرین کا کہنا ہے کہ مذکورہ پرندہ 7کروڑ پچاس لاکھ سال قبل ترکی میں گزر بسر کرتا تھا، اس کی ہڈیاں اور پٹھے بہت زیادہ مضبوط ہیں جنہیں دیکھ کر ہم خود بھی حیران ہیں۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ پرندہ اپنی نسل کے ناپید ہونے کے خوف سے ترکی چھوڑ کر کہیں اور چلا گیا تھا مگر کچھ عرصے بعد وہ دوبارہ اپنے مقام کی طرف واپس لوٹا،

مائیکرو ایٹونی کا کہنا تھا کہ ’پروں کی مضبوطی اور ان کا حجم اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ انسان نے انہی کو مدنظر رکھتے ہوئے ہوا میں اڑنے کے لیے جہاز بنایا‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ اب تک پرندوں کے حوالے سے جو بھی دریافت ہوئیں اُن میں اسے اس خاندان کا سربراہ کہا جاسکتا ہے کیونکہ اس سے قبل دریافت ہونے والی باقیات زیادہ قدیم نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: روم، کھدائی کے دوران سونے کے قیمتی سکے دریافت

کیلی فورنیا یونیورسٹی کے پروفیسر اور امریکی محقق جیسی اترہولٹ کا کہنا تھا کہ ’اب تک ہونے والے مطالعے میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ 115 سے 130 لاکھ سال قبل جدید پرندے زمین پر آئے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں