The news is by your side.

Advertisement

سقوطِ بغداد کو761 برس بیت گئے

آج سے  لگ بھگ ساڑھے سات صدی قبل ہلاکو خان نے ام البلاد بغداد کو تاراج کیا تھا، آج سقوطِ بغداد کو 761 برس مکمل ہوگئے ہیں، ہلاکو خان کے  حملے کے بعد دنیا کا سب سے عظیم شہر ایسا اجڑا کہ پھر ویسا نہ بس سکا، کہتے ہیں کہ دریائے دجلہ پہلے خون سے سرخ ہوا ، پھر کتابوں کی سیاہی سے سیاہ رنگ کا ہوکر بہتا رہا ۔

تاریخی کتب کے مطابق ہلاکو خان نے سنہ 1258 عیسوی میں بغداد کا محاصرہ کیا، اس وقت عالمِ اسلام کے اس مرکز پر 37 ویں عباسی خلیفہ مستعصم بااللہ کی حکومت تھی۔ بغداد جو کہ اس وقت دنیا میں علم و حکمت کا مرکز تھا ، عباسی خلافت کی مسلسل کمزوریوں کے سبب عسکری میدان میں منگولوں کا مقابلہ کرنے کی قوت نہ رکھتا تھا۔

ہلاکو خان نے 29 جنوری سنہ 1257 کو بغداد کے محاصرے کا آغاز کیا تھا۔  اس دوران  منگول افواج نے  بارود کی مدد سے شہر پناہ پر تابڑ توڑ حملے کیے ، یہاں تک کہ محض تیرہ دن بعد ہی خلیفہ مستعصم بااللہ نے شہر کے دروازے منگول افواج کے لیے کھول دیے اور ہلاکو خان کے سامنے ہتھیار ڈال دیے تھے۔

عباسی خلافت جو انتہائی شان و شوکت سے ابھری تھی اور تین براعظموں پر چھا گئی تھی۔ 37 ویں خلیفہ تک آتے آتے انحطاط کا شکار ہوچکی تھی ، خلافت کے زیر اہتمام زیادہ بادشاہ خود مختار تھے اور خلیفہ کا بس نام کا سکہ چلتا تھا۔ خلیفہ کا خیال تھا کہ  بغداد کے حملے کی خبر سن کر  مراکش سے لے کر ایران تک سبھی مسلمان ان کی مدد کو آجائیں گے، لیکن منگول آندھی کے خوف سے ایسا ممکن نہ ہوسکا۔

جب ہلاکو خان نے بغداد پر حملے کا ارادہ کیا تو نہ صرف  اس کے بھائی منگوخان  نے تازہ دم  منگول دستے بھجوائے تھے،  بلکہ آرمینیا اور جارجیا سے خاصی تعداد میں مسیحی فوجی بھی آن ملے تھے جو مسلمانوں سے صلیبی جنگوں میں یورپ کی شکست کا بدلہ لینے کے لیے بےتاب تھے۔

ایک جانب تو منگول لشکر آزمودہ کار تازہ دم سپاہیوں پر مشتمل تھا تو دوسری جانب تکنیکی میدان میں بھی انہیں برتری حاصل تھی ، اور وہ اس وقت کی جدید ترین جنگی ٹیکنالوجی یعنی بارود سے لیس تھے۔ منگول فوج میں چینی انجنیئروں کا یونٹ تھا جو منجنیقوں کی تیاری اور باردو کے استعمال میں مہارت رکھتا تھا۔ دوسری جانب  بغداد کے سپاہی آتش گیر مادے نفتا سے  تو واقف تھے، جسے تیروں سے باندھ کر پھینکا جاتا تھا، لیکن بارود سے ان کا کبھی واسطہ نہیں پڑا تھا۔

اس زمانے کا بارود آہستگی سے جلتا تھا، منگولوں نے اس میں یہ جدت پیدا کی ، وہ اسے لوہے یا پکائی گئی مٹی کی ٹیوبوں میں رکھ دیتے تھے جس سے وہ دھماکے سے پھٹ جاتا تھا۔ اس کے علاوہ منگولوں نے دھویں کے بم بنانے میں بھی مہارت حاصل کر لی تھی۔ جب محاصرہ ہوا تو  منگولوں کی منجنیقوں نے شہر پر آگ برسانا شروع کر دی۔ بغداد کے شہریوں کے لیے تو قیامت کی ایک نشانی پوری ہورہی تھی  کہ آسمان سے آگ برسے گی۔ یہی نہیں، منگولوں نے فصیل کے نیچے باردو لگا کر اسے بھی جگہ جگہ سے توڑدی ، یہاں تک کہ خلیفہ نے سرینڈر کردیا۔

 خلیفہ اور اس کے امراء کی جانب سے ہتھیارڈال دینے کے بعد اگلے چند دن تک جو ہوا،  اس کا کچھ اندازہ مورخ عبداللہ وصاف شیرازی کے الفاظ سے لگایا جا سکتا ہے۔:

وہ شہرمیں بھوکے گدھوں کی طرح پھِر گئے، اس طرح جیسے غضبناک بھیڑیے بھیڑوں پر ہِلہ بول دیتے ہیں۔ بستر اور تکیے چاقوؤں سے پھاڑ دیے گئے۔ حرم کی عورتیں گلیوں میں گھسیٹی گئیں اور ان میں سے ہر ایک تاتاریوں کا کھلونا بن کر رہ گئی۔

مورخین کے محتاط اندازے کے مطابق دو لاکھ سے لے کر دس لاکھ لوگ تلوار، تیر یا بھالے کے گھاٹ اتار دیے گئے اور جو زندہ بچ گئے ، ان کی زندگی مردوں سے بد تر تھی۔بغداد کی گلیاں لاشوں سے اٹی پڑی تھیں۔ چند دن کے اندر اندر ان سے اٹھنے والے تعفن کی وجہ سے ہلاکو خان کو شہر سے باہر خیمہ لگانے پر مجبور ہونا پڑا۔

خلیفہ کی ہلاکت کے بارے میں کئی کہانیاں مشہور ہیں تاہم زیادہ قرینِ قیاس ہلاکو کے وزیر نصیر الدین طوسی کا بیان ہے جو اس موقعے پر موجود تھے۔ وہ لکھتے ہیں کہ خلیفہ کو چند دن بھوکا رکھنے کے بعد ان کے سامنے ایک ڈھکا ہوا خوان لایا گیا۔ بھوکے خلیفہ نے بے تابی سے ڈھکن اٹھایا تو دیکھا کہ برتن ہیرے جواہرات سے بھرا ہوا ہے۔ ہلاکو نے کہا، ‘کھاؤ۔’

مستعصم باللہ نے کہا: ‘ہیرے کیسے کھاؤں؟’ ہلاکو نے جواب دیا: ‘اگر تم ان ہیروں سے اپنے سپاہیوں کے لیے تلواریں اور تیر بنا لیتے تو میں دریا عبور نہ کر پاتا۔’

اس کے بعد ہلاکو خان کے حکم پر مستعصم بااللہ کونمدے میں لپیٹ کر اس پر گھوڑے دوڑا دیے کہ خلیفہ کا خون زمین پر نہ بہے، یاد رہے کہ منگول روایات میں کسی بادشاہ کے خون کا زمین پر بہنا اچھا شگون تصور نہیں کیاجاتا تھا۔

بغداد کی بنیاد مستعصم باللہ کے جد ابوجعفر بن المنصور نے سنہ 762  عیسوی میں بغداد نامی ایک چھوٹے سے گاؤں کے قریب رکھی تھی۔ صرف چند عشروں کے اندر اندر یہ بستی دنیا کی تاریخ کے عظیم ترین شہروں میں شامل ہو گئی۔ ہندوستان سے لے کر مصر تک کے علما، فضلا، شاعر، فلسفی، سائنس دان اور مفکر یہاں پہنچنے لگے۔ اسی زمانے میں مسلمانوں نے چینیوں سے کاغذ بنانے کا طریقہ سیکھ لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے شہر علمی سرگرمیوں سے معمور ہو گیا۔ نویں صدی میں بغداد کا ہر شہری پڑھ لکھ سکتا تھا۔

تاریخ دان ٹرٹیئس چینڈلر کی تحقیق کے مطابق سنہ 775 سے لے کر سنہ 932 تک آبادی کے لحاظ سے بغداد دنیا کا سب سے بڑا شہر تھا۔ اس کے علاوہ اسے دس لاکھ کی آبادی تک پہنچنے والے دنیا کا پہلا شہر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں