The news is by your side.

Advertisement

حضرت لعل شہباز ﻗﻠﻨﺪﺭؒ کے 766 ویں عرس کی تقر یبات کا آغاز آج سے ہوگا

سہیون شریف : پاکستان کے صوبہ سندھ میں سیہون کے مقام پر صوفی بزرگ لعل شہباز ﻗﻠﻨﺪﺭؒ کے سالانہ عرس کی تقریبات آج سے شروع ہورہی ہیں، جو آٹھ مئی تک جاری رہیں گی۔

تفصیلات کے مطابق سیہون میں مشہور صوفی بزرگ حضرت لعل شہباز قلندر کے 766 ویں عرس کی 3 روزہ تقریبات کا آغاز آج مغرب کے بعد ہوگا، عرس میں شرکت کیلئے ملک بھر سے زائرین کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔

تقریبات کا آغاز مزار پر چادر چڑھا کر کیا جاتا ہے، اس موقع پر ناصرف سندھ سے تعلق رکھنے والے زائرین موجود ہوتے ہیں، بلکہ ملک کے کونے کونے سے انگنت عقیدت مند مزار پر حاضری دینے آتے ہیں۔

حضرت عثمان مروندی المعروف لعل شہباز قلندر کا عرس ہر سال اٹھارہ شعبان کو شروع ہو کر اکیس شعبان تک جاری رہتا ہے۔

عرس کے موقع پر محکمہ اوقاف کی جانب سے زائرین کیلئے تمام انتظامات مکمل کرلیئے گئے ہیں، سندھ بھر کی طرح سیہون میں شدید گرمی سے بچاؤ کیلئے زائرین کیلئے محکمہ اوقاف اور حکومت سندھ کی جانب سے ہیٹ اسٹوک کیمپ بھی لگائے گئے ہیں۔

عرس کی سیکیورٹی کیلئے پولیس اہلکاروں کو تعینات کردیا گیا ہے، آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے پولیس کو جاری احکامات میں کہا ہے کہ حضرت لعل شہباز قلندرؒ کے عرس کی تین روزہ تقریبات کے موقع پر صوبے بھر میں سیکیورٹی کے جملہ اقدامات پر عمل درآمد کو انتہائی مستعد اور الرٹ رہتے ہوئے یقینی بنایا جائے۔

  ﺣﻀﺮﺕ ﻟﻌﻞ ﺷﮩﺒﺎﺯ ﻗﻠﻨﺪﺭؒ کا سفر زندگی

عظیم صوفی بزرگ حضرت لعل شہباز قلندرؒ کی ولادت 538 ہجری کوآذر بائیجان کے گاؤں مروند میں ہوئی۔ آپ کانام سید عثمان رکھا گیا مگر بعد میں آپ نے لعل شہباز قلندر کے نام سے دنیا میں شہرت پائی۔

شہباز قلندر میں صوفیوں والی بے چینی ہمہ وقت موجود تھی اور صوفی سفر کرتا ہےکائنات کے اسرار جاننے کی دھن میں اس لیے قلندر بھی سفر پر نکلے۔

آپ کے ہم عصر اولیا کرام میں حضرت شیخ بہاالدین زکریا ملتانیؒ(نقشبندی سلسلے کے بانی)، بابا فرید الدین مسعود گنج شکر:(فریدی سلسلے کے بانی)،حضرت جلال الدین سرخ بخاریؒ شامل ہیں، آپ چاروں دوستوں کی طرح تھے  تاہم آپ ان چاروں میں سب سے کم عمر تھے۔

آپ چاروں سہروردی سلسلے کے بانی پیر طریقت شیخ شہاب الدین سہرودری کی خدمت میں حاضری کے لیے بغداد روانہ ہوئے، نصف شب کو پہنچے، شیخ شہابؒ نے حضرت عثمان بن مروند  کو خلوت میں بلایا، ان سے خدمت لی، سینے سے  لگا کر علم منتقل کیا اور انہیں لعل شہباز قلندرؒ بنادیا، بعدازاں باری باری تینوں اولیا کرام کو بلایا اور اپنی تصنیف عوارف المعارف(تصوف کی شہرہ آفاق کتاب) کا درس دیا اور مراتب سے نوازا۔

بابا فریدؒ کے حکم پر لعل شہبازؒ منگھوپیر بابا سے ملنے کراچی تشریف لائے اس وقت یہ جگہ غیر آباد تھی، آپ کا مسکن ندی کنارے تھا۔

لعل شہاز قلندرؒ ندی سے آپ کے گھر تک مگرمچھ پر سفر کرکے گئے، بعدازاں لعل شہبازؒ کے چند خلفا منگھوپیر بابا کی خدمت میں آئے تو وہ بھی اپنے پیرو مرشد شیخ لعل شہبازؒ کی تقلید میں مگر مچھ پر سواری کرکے گئے بعدازاں وہ سارے مگر مچھ منگھوپیر بابا کے مزار پررہ گئے اور انہیں وہاں کے مجاوروں نے باقاعدہ خوراک دی، ان ہی مگرمچھوں کی نسل کے مگر مچھ آج تک مزار کے احاطے میں موجود ہیں۔

آپ کا وصال21 شعبان المعظم 673 ہجری میں ہوا۔

لعل شہباز قلندرؒ بابا فریدؒ کا بہت احترام کرتے تھے، بابا فریدؒ نے لعل شہباز قلندرؒ کو سیہون شریف بھیجا اور سو خلفا آپ کے ماتحت کیے اور آپ سہون کے ہوگئے۔

سہون شریف میں دور سے نظر آتا سنہری گنبد اس عظیم ہستی کی آخری آرام گاہ ہے جو امن اور محبت کا پیغام لیے مروند سے چلا اور سفر کرتا ہوا سندھ دھرتی پہنچا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں