The news is by your side.

سابقہ دور حکومت میں ناقص پلاننگ سے پی آئی اے کے کروڑوں کے جہاز ناکارہ

کراچی: سابقہ دورِ حکومت میں ناقص پلاننگ کی وجہ سے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن کے کروڑوں روپے کے جہاز نا کارہ ہو گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق پی آئی اے کے 8 طیارے 2 سال سے ایئر پورٹ کے مخصوص ایریا میں نا کارہ حالت میں کھڑے ہیں، ان نا کارہ طیاروں میں پی آئی اے کے ایئر بس 310 کے 4 طیارے بھی شامل ہیں۔

اے آر وائی نیوز کے نمائندے کے مطابق ناکارہ طیاروں میں جمبو 747 ایک، اے ٹی آر کے 2 اور ایک 777 طیارہ بھی شامل ہے۔

ناکارہ کھڑے طیاروں میں سے کسی کا انجن غائب تو کسی کے پر کٹے ہوئے ہیں، کراچی ایئر پورٹ کے مخصوص حصوں میں کھڑے طیارے پرندوں کی آماج گاہ بن گئے ہیں، گھونسلے بھی بنا ڈالے۔ پی آئی اے کے کروڑوں روپے مالیت کے ناکارہ جہاز اب کوئی اسکریپ میں بھی خریدنے کو تیار نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  سیاحت میں سرمایہ کاری سے بہت منافع حاصل ہوسکتا ہے: وزیر اعظم

پرندوں کی آمد کی وجہ سے دوسرے طیاروں کے لیے بھی خطرات لا حق ہو گئے ہیں، سول ایوی ایشن اتھارٹی نے پی آئی اے کو نا کارہ جہاز ہٹانے کے لیے خط لکھ دیا۔

خیال رہے کہ ان طیاروں کی بڑی تعداد سابق مشیر ہوا بازی کی سفارش پر بھرتی کیے گئے جرمن سی ای او کے دوران ملازمت میں نا کارہ ہوئی، ترجمان پی آئی اے نے بتایا کہ ایئر بس 310 طیاروں کی 2 بار نیلامی بھی کی گئی لیکن صحیح بولی نہ لگ سکی۔

پی آئی اے کے ترجمان کے مطابق بوئنگ 777 طیارے پر مرمت کا کام شروع کر دیا گیا ہے، آئندہ 2 ہفتوں میں اسے اڑان کے قابل بنا دیا جائے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں