نئی دہلی : رواں سال جنوری کے پہلے 15 دنوں میں بھارتی دارالحکومت دہلی میں 800 سے زائد افراد لاپتہ ہونے کا انکشاف ہوا۔
تفصیلات کے مطابق بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی زیر سرپرستی دہلی میں جرائم کی شرح میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، جس نے دارالحکومت کو شہریوں کے لیے غیر محفوظ ترین شہر بنا دیا ہے۔
بھارتی جریدے "دی ہندو” اور دیگر ذرائع نے مودی انتظامیہ کی ناقص سیکیورٹی اور جرائم پیشہ عناصر کی پشت پناہی کا پردہ چاک کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق رواں سال جنوری کے پہلے 15 دنوں میں دہلی سے 800 سے زائد افراد لاپتہ ہوئے، جو کہ انتظامیہ کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ دہلی میں روزانہ 16 بچوں سمیت 60 سے زائد افراد لاپتہ ہو رہے ہیں ، مجموعی طور پر بھارت کے لاپتہ ہونے والے افراد میں سے 8 فیصد اور بچوں میں سے 10 فیصد کا تعلق صرف دہلی سے ہے۔
سال 2017 سے 2023 کے درمیان سالانہ اوسطاً 13 ہزار خواتین اور 4 ہزار کمسن لڑکیوں کی گمشدگی کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
عالمی ماہرین اور تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مودی سرکار کی سنگین غفلت اور نااہل اداروں کے باعث لاپتہ ہونے والے بچوں اور خواتین کی بڑی تعداد تاحال بازیاب نہیں کرائی جا سکی۔
ماہرین کے مطابق مودی انتظامیہ نے انتہا پسند گروہوں کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے، جو مبینہ طور پر لاپتہ افراد کو انسانی اسمگلنگ جیسے مکروہ دھندوں میں استعمال کر رہے ہیں۔
مودی کی انتظامی ناکامی اور ریاستی غفلت نے بھارت کو دنیا کے غیر محفوظ ترین ممالک کی فہرست میں شامل کر دیا ہے، جہاں شہری اپنے ہی دارالحکومت میں عدم تحفظ کا شکار ہیں۔
بھارتی جرائد کے مطابق دارالحکومت میں سیکیورٹی کے نام پر بجٹ تو خرچ کیا جا رہا ہے، لیکن عوام کی جان و مال شامل کر دیا ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


