The news is by your side.

Advertisement

شوق کا کوئی مول نہیں، 88 سالہ شخص گول کیپر بن گیا، ویڈیو دیکھیں

شوق کا کوئی مول نہیں، یہ محاورہ برطانیہ سے تعلق رکھنے والے اٹھاسی سالہ شخص نے پورا کردکھایا۔

عمومی طور پر فٹ بالر کا کیریئر تیس سے چالیس سال کے درمیان ہوتا ہے، بعد ازاں وہ اس کھیل سے کنارہ کشی اختیار کرلیتا ہے کیونکہ اس کی جسمانی صحت سے مزید کھیلنے کی اجازت نہیں دیتی۔

مگر برطانیہ کی لنڈڈنو ویلز سے تعلق رکھنے والے معمر ترین فٹ بالر کیمسل اٹھاسی سال کی عمر میں بھی کلب کے لئے گول کیپنگ کررہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ فٹ بالرز کے لئے اس کی عمر جسمانی سرگرمیوں کو کسی صورت کم نہیں کرسکتی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ انہیں ابتدا سے ہی فٹ بال سے جنون کی حد تک لگاؤ تھا، کیمسل نے بتایا کہ جب میں نے فٹ بال کھیلنا شروع کرتا تھا تو وہ بہت زیادہ پھرتیلا نہیں تھا، کم فٹنس لیول کی وجہ سے میں نے گول کیپنگ کا رخ کیا۔

اپنے ماضی کے تجربات شیئر کرتے ہوئے کیمسل نے بتایا کہ اس نے کئی نسلو ں کو ٹیم کے لئے کھیلتے دیکھا ہے، یہاں تک کہ وہ اپنے خاندان کے ارکان کے ساتھ بھی کھیلتا رہا۔

کیمسل کا کہنا تھا کہ میں نے برسوں اس کلب سے فٹ بال کھیلی، میرے زیادہ تر ساتھی یا تو دنیا سے چلے گئے یا پھر بوڑھے ہوچکے، میں نے ان کے بیٹوں حتیٰ کہ پوتوں کے ساتھ بھی فٹ بال کھیلی، ایک ایسا وقت بھی تھا کہ میرے اور دیگر کھلاڑیوں کے درمیان 25 سال عمر کا فرق تھا۔

واضح رہے کہ کیمسل کو پہلے ہی برطانیہ کے سب سے بوڑھے فٹ بالر کے طور پر تاج پہنایا جا چکا ہے

Comments

یہ بھی پڑھیں