The news is by your side.

Advertisement

آخرکیسے ایک آئی بی اے گرایجویٹ سبین محمود کوقتل کرسکتا ہے؟

کراچی: سندھ کے وزیراعلیٰ قائم علی شاہ نے گذشتہ روزمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ سبین محمود قتل کے ماسٹرمائنڈ کو گرفتارکرلیا گیا ہے جس نے دورانِ تفتیش کراچی میں صفورہ چورنگی پراسماعیلی کمیونٹی کی بس پرہونے والے حملے سمیت کئی حملوں کی منصوبہ بندی کا بھی انکشاف کیاہے۔

مبینہ مجرم نے ٹی ٹوایف کی ڈائریکٹرسبین محمود کے بہیمانہ قتل اورامریکی نژاد پروفیسرڈیبرا لوبو پرحملے کا بھی اعتراف کیا ہے۔

سبین محمود – ڈائریکٹر ٹی ٹو ایف

سعد عزیز نامی اس شخص کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ سعد ایک بالکل نارمل انسان تھا اوراس نے کبھی بھی اپنے عسکریت پسند عزائم ظاہر نہیں کئے- ایک استاد نے بھی انہی خیالات کا اظہارکیا۔

حملہ آوروں اورماسٹر مائند کی گرفتاری میں سب سے ہولناک بات یہ ہے کہ ان حملوں کا مبینہ ماسٹرمائنڈ جس کا نام سعد عزیز ہے وہ آئی بی اے ( انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن) کا سابق گرایجویٹ ہے۔

آئی بی اے کی مرکزی ویب سائٹ پردیکھا جاسکتا ہے کہ سعد عزیز نے 2007 کے سمرسمسٹر میں داخلہ لیا تھا اور2011 میں گرایجویشن کی ڈگری حاصل کی تھی۔

سعد عزیز آئی بی اے کا طالب علم تھا
آئی بی اے کی طلبا کی فہرست میں سعد عزیز کانام
سانحہ صفورہ میں نشانہ بننے والی بس
بس کے اندرونی مناظر

جیسے ہی یہ خبرنشرہوئی کہ کہ تعلیم یافتہ دہشت گرد گرفتار کئے گئے ہیں، پاکستانی ٹویٹر صارفین نے سعد عزیز سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرنا شروع کردیا۔

ایک مخصوص ٹویٹر پیغام میں ایک شدت پسند فیس بک گروپ ’’دی ڈیفیانس‘‘ کی بھی نشاندہی کی گئی جس کا سعد رفیق ممبرتھا۔

یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ آئی بی اےایک ایسا ادارہ ہے جہاں سے موجودہ صدرِ پاکستان ممنون حسین اور سابق اہم وزیراعظم شوکت عزیز جیسی اہم سیاسی شخصیات اور ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرنے والے نام یہاں کے فارغ التحصیل ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں