The news is by your side.

Advertisement

ملک بھر میں قائم 96 سِول ایپلٹ کورٹس نے آج سے با قاعدہ کام کا آغاز کر دیا

اسلام آباد: آج سے ملک بھر میں قایم 96 سول ایپلٹ کورٹس نے با قاعدہ کام کا آغاز کر دیا، مجموعی طور پر 403 دیوانی، فیملی اور رینٹ اپیلوں کے فیصلے کیے گئے۔

تفصیلات کے مطابق ملک میں نئے قایم شدہ سِول ایپلٹ عدالتوں نے آج سے کام شروع کر دیا ہے، عدالتوں نے ایک دن میں 403 مقدمات نمٹائے۔

ملک بھر میں قایم 110 ماڈل مجسٹریٹس عدالتوں نے بھی 169 مقدمات کے فیصلے دیے، تمام عدالتوں میں 276 گواہان کے بیانات قلم بند کیے گئے۔

مجموعی طور پر 17 مجرموں کو 42 سال 3 ماہ اور 12 دن قید کی سزا سنائی گئی، مجرموں پر 3 لاکھ 58 ہزار 500 روپے جرمانہ بھی عاید کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:  ماڈل کورٹس میں تیز ترین سماعتیں جاری، پانچ مجرموں کو پھانسی

دوسری طرف پاکستان کی ماڈل عدالتوں میں بھی مقدمات کی تیز ترین سماعت کا سلسلہ جاری ہے، 167 ماڈل کورٹس میں آج مجموعی طور پر 186 مقدمات کا فیصلہ سنایا گیا۔

آج قتل کے 64 اور منشیات کے 122 مقدمات کا فیصلہ سنایا گیا، 707 گواہان کے بیانات قلم بند کیے گئے، 2 مجرموں کو سزائے موت دی گئی جب کہ 14 کو عمر قید کی سزا ہوئی۔

دیگر 28 مجرموں کو کل 30 سال 10 ماہ 4 دن قید، اور 67 لاکھ 54 ہزار 436 روپے جرمانہ عاید کیا گیا۔

واضح رہے کہ موجودہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا تھا کہ وہ عرصہ دراز سے زیر التوا مقدمات نمٹانے کا قرض اتاریں گے۔ انھوں نے بتایا کہ اس وقت عدالتوں میں 19 لاکھ کیسز زیر التوا ہیں، 3 ہزار ججز یہ مقدمات نہیں نمٹا سکتے۔ مقدمات تیزی سے نمٹانے کے لیے ملک بھر میں ماڈل عدالتیں قایم کی جائیں گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں