site
stats
اے آر وائی خصوصی

بے شک! شبِ قدر ہزارمہینوں سے بہتر رات ہے

شبِ قدرفارسی لفظ ہے جس کے معنی ہیں’رات‘ اور’قدر‘ یا تو تقدیرسے ہے جس کے معنی مقررکرنا، تجویز کرنا ،اور تقدیر الٰہی کے ہیں، تو شب قدر کے معنی تقدیر کی رات کے ہیں،اور بقول قتادہ اس رات میں ہر آدمی کا رزق وروزی مقرر کیا جاتا ہے، عمر لکھی جاتی ہے، ہر طرح کے فیصلے لکھ کر ذمہ دار فرشتوں کے حوالے کر دئیے جاتے ہیں،’’لِأَنَّ اللّٰہَ تَعَالیٰ یُقَدِّرُ فِیْہَا مَایَشَاءُ مِنْ أَ مْرِہٖ‘‘اس لئے اسکو شبِ قدر کہتے ہیں۔

(القرطبی ۲۰؍۱۳۰)​۔

شبِ قدر کے معنی عزت وعظمت اور شرافت کے ہیں اور بقول ابوبکر وَرَّاق ْ اس رات میں جو کتاب (قرآن) لوح محفوظ سے آسمان دنیا پراتاری ،وہ بھی قابلِ قدر ہے اور جس پیغمبرپر اتاری وہ بھی قابلِ قدر ہے ،اور جس امت پر اتاری وہ بھی امتوں میں سب سے بہتر امت ہے، تو ان قابلِ قدر چیزوں کی وجہ سے اس کو شبِ قدر کہتے ہیں، جس کے معنی ہوئے عظمت والی رات۔

القرطبی ۲۰؍۱۳۱)​۔)

بے شک ہم نے اس (قرآن) کو شبِ قدر میں اتارا ہے اور آپ کیا سمجھے ہیں (کہ) شبِ قدر کیا ہے؟ شبِ قدر (فضیلت و برکت اور اَجر و ثواب میں) ہزار مہینوں سے بہتر ہے اس (رات) میں فرشتے اور روح الامین (جبرائیل) اپنے رب  کے حکم سے (خیر و برکت کے) ہر امر کے ساتھ اترتے ہیں یہ (رات) طلوعِ فجر تک (سراسر) سلامتی ہے۔

القدر، 97 : 1. 5

لیلۃ القدر کی فضیلت میں کتبِ حدیث بہت سی روایات مذکور ہیں۔ ذیل میں چند ایک احادیث کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا

مَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ يْمَانًا وَّاحْتِسَاباً غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ

بخاری، الصحيح، کتاب صلاة التراويح، باب فضل ليلة القدر، 2 : 709، رقم :1910

جو شخص لیلۃ القدر میں حالتِ ایمان اور ثواب کی نیت سے قیام کرتا ہے، اُس کے سابقہ گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔

مندرجہ بالا ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں جہاں لیلۃ القدر کی ساعتوں میں ذکر و فکر اور طاعت و عبادت کی تلقین کی گئی ہے وہاں اس بات کی طرف بھی متوجہ کیا گیا ہے کہ عبادت سے محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی مقصود ہو، دکھاوا اور ریا کاری نہ ہو پھر یہ کہ آئندہ برائی نہ کرنے کا عہد کرے۔ اس شان سے عبادت کرنے والے بندے کے لئے یہ رات مژدۂ مغفرت بن کر آتی ہے۔ لیکن وہ شخص محروم رہ جاتا ہے جو اس رات کو پائے مگر عبادت نہ کرسکے۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رمضان المبارک کی آمد پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا

یہ ماہ جو تم پر آیا ہے، اس میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے۔ جو شخص اس رات سے محروم رہ گیا، گویا وہ ساری خیر سے محروم رہا۔ اور اس رات کی بھلائی سے وہی شخص محروم رہ سکتا ہے جو واقعتاً محروم ہو۔
ابن ماجه، السنن، کتاب الصيام، باب ما جاء فی فضل شهر رمضان، 2 : 309، رقم : 1644

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لیلۃ القدر کی فضیلت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا

شب قدر کو جبرائیل امین فرشتوں کے جھرمٹ میں زمین پر اتر آتے ہیں۔ وہ ہر اُس شخص کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں جو کھڑے بیٹھے (کسی حال میں) اللہ کو یاد کر رہا ہو۔

بيهقی، شعب الإيمان، 3 : 343، رقم : 3717

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top