ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کے بعد روس اور امریکا میں برف پگھلتی نظر آ رہی ہے امریکی صدر روس کا کب دورہ کریں گے وہ انہوں نے بتا دیا۔
امریکا اور روس کئی دہائیوں سے سخت سیاسی حریف رہے ہیں۔ تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسری مدت کے لیے صدر کا منصب سنبھالنے کے بعد حالیہ بیانات، روسی ہم منصب کو فون کرنے سے ان ممالک کے درمیان برف پگھلتی نظر آ رہی ہے۔ امریکی صدر کب روس کا دورہ کریں گے، یہ ٹرمپ نے خود ہی بتا دیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے طمابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ 9 مئی کی تاریخ ان کے دورہ روس کے لیے شاید بہت جلد ہوگا تاہم وہ مناسب وقت پر ماسکو جانے کے لیے تیار ہوں گے۔
یوکرین میں روس کی فوجی مہم کے تین سال مکمل ہونے کے موقع پر وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی اہم ملاقات ہوئی۔
اس ملاقات میں ایمائوئل میکرون نے واشگاف الفاظ میں روس کو ڈکٹیٹر کہتے ہوئے کہا کہ روس جارحیت کرنے والا ملک ہے، تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی ہم منصب ولادیمیر پیوٹن کو ڈکٹیٹر کہنے سے انکار کر دیا۔
رپورٹ کے مطابق اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں کے درمیان روس یوکرین جنگ کے اسباب، تنازع میں ہر فریق کے کردار اور اس کے ممکنہ حل کے حوالے سے نمایاں طور مختلف رائے پائی گئی۔
ملاقات کے بعد اوول آفس میں صحافیوں کے ان کے ممکنہ دورہ روس سے متعلق پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ وہ مناسب وقت پر ضرور ماسکو جائیں گے۔
واضح رہے کہ دوسری مدت کے لیے منصب صدارت کا حلف اٹھانے سے قبل ٹرمپ کا یہ بیان سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ان کے اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان ملاقات طے ہو رہی ہے لیکن انہوں نے اس ملاقات کی کوئی ٹائم لائن پیش نہیں کی تھی۔
حلف اٹھانے کے فوری بعد ٹرمپ نے دو روایتی حریفوں چینی اور روسی صدور سے ویڈیو لنک پر رابطہ بھی کیا تھا۔ جب کہ پیوٹن نے امریکی ہم منصب کو روس کے دورے کی دعوت بھی دی تھی۔