The news is by your side.

Advertisement

مٹی سے بنی چار سو سال پرانی عمارت میں رہنے والا سعودی شہری

ریاض: سعودی شہری نے اپنی پرانی یادیں اور تاریخی ورثے کو زندہ رکھنے کے لیے مٹی سے بنی چار سو  سال پرانی عمارت میں سکونت اختیار کر لی۔

تفصیلات کے مطابق سعودی شہری ’خالد محمد آل سالم‘ مٹی کے بنے چار سو سال پرانے اپنے آبائی گھر میں رہ رہے ہیں جس کا مقصد اپنے باپ دادا کی میراث میں ملنے والے اس گھر کی تاریخ اور اس کے ورثے کو زندہ رکھنا ہے۔

مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خالد محمد آل سالم نے کہا کہ یہ مکان 4 سو سال سے بھی زیادہ قدیم ہے، تعیر کے اعلی معیار کے سبب اب تک محفوظ ہے، مجھے یاد ہے کہ میرے والد نے انتقال سے قبل مجھے وصیت اور ہدایت کی تھی کہ اس گھر کو ہمیشہ قائم رکھنا۔

دنیا بھر کے تاریخی مقامات رکھنے والا ننھا منا شہر

انہوں نے کہا کہ میں نے اس گھر کی بھرپور مرمت اور تزئین وآرائش کرائی ہے، اس عمل میں لکڑی، لوہے کے گارڈرز، سمینٹ اور پتھروں کا بھی استعمال ہوا ہے جبکہ اس کام کے لیے مقامی ماہر آرٹسٹ و خوب صورت نقش نگار کا بھی سہارا لیا گیا ہے، پورے ڈھائی سال کی محنت کے بعد اس مکان کو نئی شکل دی گئی ہے۔

سعودی شہری کا مزید کہنا تھا کہ تزئین کے بعد اس گھر کا افتتاح اپنی والدہ کے ہاتھوں کرایا جبکہ گھر کے نچلے حصے کو والد کے زیر استعمال چیزوں اور نادر ونایاب نوعیت کے ساز و سامان سے آراستہ کر کے میوزیم کی شکل دے دی ہے۔

دنیا بھر کی خوبصورت و تاریخی مساجد

خیال رہے کہ سعودی عرب میں سیاحت اور قومی ورثے سے متعلق جنرل اتھارٹی کے سربراہ شہزادہ سلطان بن سلمان کی جانب اس عظیم کارنامے پر خالد کو اعزاز سے بھی نوازا گیا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں