The news is by your side.

Advertisement

سعودی اقامہ ہولڈرز کی بڑی پریشانی دور

سعودی عرب میں غیرملکیوں کے لیے ویزا، رہائشی اور ملازمت کے قوانین واضح ہیں جن پر عمل کرنا تمام تارکین وطن پر لازم ہے بصورت دیگر ایکشن لیا جاتا ہے۔

سعودی محکمہ پاسپورٹ نے غیرملکیوں کو درپیش اہم مسئلے پر وضاحت پیش کی جس میں بتایا گیا کہ اقامے کی مدت کم ہونے پر خروج و عودہ میں توسیع کیسے ممکن ہے۔ قوانین کے مطابق اقامہ پر مقیم غیر ملکی ملازم یا ان کے اہل خانہ کو مملکت سے چھٹی پر جاتے وقت خروج و عودہ ’ایگزٹ ری انٹری ‘ ویزا حاصل کرنا ضروری ہے۔

اگر کسی کے اقامے کی مدت کم ہے اور وہ خروج وعودہ کی معیاد بڑھانا چاہتا ہے تو اس کے لیے لازمی ہے کہ پہلے اقامہ کی ایکسپائری تاریخ میں توسیع کرائے بعد ازاں مطلوبہ مدت کے لیے خروج و عودہ کی مدت میں اضافہ کرایا جا سکتا ہے کیوں کہ خروج و عودہ اقامہ کی مدت سے منسلک ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اقامے کی مدت جتنی ہوگی اسی حساب سے خروج وعودہ جاری ہوتا ہے۔

سعودی قوانین کے تحت خروج و عودہ کی ماہانہ فیس 100 ریال ہے جتنی مدت کا خروج و عودہ درکار ہوتا ہے ماہانہ حساب سے فیس جمع کرانے کے بعد ویزا حاصل کیا جا سکتا ہے۔ امگریشن اہلکاروں کی جانب سے ایگزٹ اسٹیمپ لگنے کے بعد سے مدت کی تاریخ شروع ہوجاتی ہے۔

غیرملکیوں کو پابند کیا جاتا ہے کہ وہ چھٹوں کے بعد مقررہ تاریخ میں سعودی عرب واپس آجائیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں