The news is by your side.

Advertisement

جعلی پولیس مقابلے میں زخمی ہونے والا شخص سامنے آگیا

کراچی : پولیس اہلکاروں کی گولی سے زخمی ہونے والے نوجوان نے پولیس کے اعلیٰ حکام سے انصاف کا مطالبہ کردیا۔

تفصیلات کے مطابق سندھ پولیس کے اہلکاروں نے گزشتہ روز آئی آئی چندیگر روڈ پر کن نوجوانوں پر گولیاں برسائیں، زخمی ہونے والے نوجوان کو نمائندہ اے آر وائی نیوز نے ڈھونڈ نکالا۔

پولیس کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے نوجوان وقار نے اے آر وائی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم تین دوست تھے اور بینک کی طرف جارہے تھے کہ راستے میں ہم نے لسی پینے رکے اور دوست سے لسی کے پیسے نکالنے کو کہا۔

متاثرہ شخص نے بتایا کہ اس دوران موبائل پر کال موصول ہوئی تو کال سننے لگا کہ اچانک پیچھے سے فائرنگ کی آوازیں آنے لگی اور ایک گولی مجھے آکر لگی، دیکھا تو پولیس اہلکار ہم پر فائرنگ کررہے تھے۔

فائرنگ کے باعث ہم نے ہاتھ بھی اوپر اٹھائے اور پولیس اہلکاروں کو کہا کہ ہم آپس میں دوست ہیں گولیاں کیوں چلارہے ہو، وہ قریب آئے اور ان میں سے ایک اہلکار نے پھر فائرنگ کی جس کے باعث بن کباب کے ٹھیلے کے پاس کھڑا ایک شخص جاں بحق ہوگیا۔

وقار کا کہنا تھا کہ ہم سے کوئی ایسی غلطی نہیں ہوئی تھی جس کے باعث پولیس اہلکار ہم پر گولیاں برساتے، واقعے میں پولیس اہلکاروں نے نہ ہی ہمیں روکا، نہ ہماری تلاشی لی بلکہ برائے راست فائرنگ شروع کردی۔


متاثرہ نوجوان نے سندھ پولیس کے اعلیٰ حکام سے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔

کراچی پولیس نے شہری کو ڈاکو سمجھ کر گولیاں مار دیں، وزیراعلیٰ سندھ کا نوٹس

یاد رہے کہ 7 اگست کو کراچی کے علاقے آئی آئی چندریگرروڈپر پولیس نے شہری کو ڈاکو سمجھ کر گولیاں مار دیں تھیں، واقعے میں اسلم نامی شخص جاں بحق اور وقار نامی شہری زخمی ہوا تھا۔

ڈی آئی جی ساؤتھ جاوید اکبر ریاض کا کہنا تھا کہ فائرنگ مددگار 15میٹھادر کی پولیس نےمشکوک جانتے ہوئے کی تھی، مدد گار 15 پولیس کے تینوں اہلکاروں سے تفتیش جاری ہے، ایس ایس پی سٹی مقدس حیدر واقعےکی تحقیقات کر رہے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں