The news is by your side.

Advertisement

لندن: حجاب کی وجہ سے مسلم ماڈل کو اشتہاری مہم کا حصہ بننے سے روک دیا گیا

لندن: برطانیہ سے تعلق رکھنے والی مسلم ماڈل ’ماریہ ادریسی‘ کو حجاب کرنے کی وجہ سے اشتہاری مہم میں حصہ لینے سے روک دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق مسلم ماڈل ’ماریہ ادریسی‘ کو اس وجہ سے بیوٹی کے اشتہاری مہم سے روک دیا گیا کیوں کہ وہ ایک مسلمان ہیں اور حجاب کرتی ہیں، جس کے باعث وہ اشتہارات کے ذریعے زیادہ لوگوں کو اپنی طرف مائل نہیں کر پائیں گی۔

مقامی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے ماڈل ماریہ ادریسی نے کہا کہ میں یہ سن کر حیران رہ گئی کہ مجھے اشتہاری مہم بورڈ نے اپنے مہم میں شامل نہیں کیا، اس کی وجہ صرف حجاب کرنا اور میرا مسلمان ہونا ہے کیوں کہ بورڈ کا خیال یہ ہے کہ حجاب کی وجہ سے لوگ ان کی طرف مائل نہیں ہوں گے۔

جرمنی: حجاب پر پابندی کی تجویز، اساتذہ نے بھی حمایت کردی

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ بیوٹی مہم ان کے لیے ایک بہت بڑی ڈیل تھی لیکن انتظامیہ نے ان کے ساتھ معاہدہ کرنے سے انکار کردیا جس کی وجہ سے وہ ابھی تک صدمے کا شکار ہیں، البتہ انہوں نے ماضی میں حجاب پہن کر ہی ماڈلنگ کی اور اشتہاری مہم کا حصہ رہ چکی ہیں۔

انگلینڈ میں منعقدہ مقابلہ حُسن میں پہلی باحجاب لڑکی فائنل میں پہنچ گئی

خیال رہے کہ مسلم ماڈل ماریہ برطانیہ کی مقبول ماڈل ہیں، انہوں نے پہلی بار 2015 میں اس وقت شہرت حاصل کی تھی کہ جب انہوں نے ایک نجی ادارے کی بیوٹی مہم میں حجاب پہن کر شرکت کی جس کے بعد ماریہ ادریسی کی حجاب میں ملبوس تصاویر میگزین اور رسالوں کی زینت بھی بنیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں