The news is by your side.

Advertisement

صحرائے عرب کی پراسرار کہانی

عرب ممالک سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں صحرائے عرب کی پراسرار کہانیاں مشہور ہیں، بعض لوگ اسے سچے واقعات پر مبنی قرار دیتے ہیں جبکہ کئی لوگوں کا ماننا ہے یہ محض افواہیں ہیں۔

اسی ضمن میں برطانوی فوجی افسر اور مؤرخ ہیرولڈ ڈکسن نے اپنی کتاب ’عرب صحرا‘ (عرب کا صحرا) میں کئی کہانیاں بیان کی ہیں۔ ان افسر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے برسہا برس صحرا میں عربوں کے ساتھ گزارا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ وہاں کے حالات واقعات سے بخوبی واقف ہیں۔

ہیرولڈ ڈکسن اپنی کتاب میں باپ کا بیٹے سے انتقام کا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ایک خوبصورت لڑکی سے باپ اور بیٹا دونوں شادی کرنا چاہتے تھے، دونوں کے درمیان اختلاف شدت اختیار کرگیا، باپ عرب قبیلے کا مالدار اور بااثر شخص تھا جس نے کویت کے اطراف سکونت اختیار کررکھی تھی۔

جبکہ بیٹا ابھی نوجوان تھا، دونوں کے درمیان تلخی اس قدر بڑھ چکی تھی کہ کوئی بھی اس خوبصورت لڑکی سے دست بردار نہیں ہونا چاہتا تھا۔ بالآخر بیٹے نے باپ کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ اپنی نئی زندگی عراق میں بسا سکے۔

متحدہ عرب امارات : صحرا میں ایک ماہ سے پھنسے ہوئے شخص کی لاش برآمد- | KHALEEJ URDU | UAE NEWS URDU | DUBAI NEWS URDU | GULF NEWS URDU | DAILY

بیٹے نے باپ کے پاس موجود گھوڑوں میں سے ایک بہترین گھوڑے کا انتخاب کیا، بندوق اور کارتوس سمیت دیگر ضروری اشیا لے کر صبح سویرے عراق کی جانب چل پڑا۔ باپ کی اچانک آنکھ کھلی تو احساس ہوگیا بیٹا مجھے اور گھر چھوڑ کر جاچکا ہے پھر اس نے بیٹے سے بھیانک انتظام لینے کا فیصلہ کیا۔

اس زمانے میں عربوں کی نظر میں گھوڑے اور بندوقوں کی چوری بدترین سمجھی جاتی تھی۔ باپ نے شور مچا دیا کہ کسی نے میرا گھوڑا چوری کرلیا ہے، پھر کیا تھا قبیلے سے ہتھیار بند جنگجو تعاقب میں نکل پڑے، انہیں نہیں پتا تھا کہ جسے وہ چور سمجھ رہے ہیں وہ مذکورہ باپ کا بیٹا ہی ہے لیکن باپ کو تو انتقام چاہیئے تھا۔

قبیلے کے لوگ گھوڑے کے پیروں کے نشانات دیکھ کر نوجوان تک پہنچ گئے اور پیچھے سے تیر برسانا شروع کردیے جس نے بیٹے کے جسم کو چیر دیا، لاش کے پاس پہنچ کر چہرہ دیکھا تو حملہ آور دنگ رہ گئے۔ واقعے کی اطلاق قبیلے کو ملی جس کے بعد باپ سے تمام شناخت چھین کر اسے قبیلہ بدر کردیا گیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں