The news is by your side.

Advertisement

سیّد علی گیلانی: آخرت فراموش تہذیب سے نجات کا راستہ بتانے والا مجاہد

سیّد علی شاہ گیلانی جنھیں مرحوم لکھتے ہوئے کلیجہ منہ کو آتا ہے، ایک نبّاض اور ایسے مدبّر تھے جنھوں نے نہ صرف دین و ملّت کا حق ادا کرنے کی سعی کرتے ہوئے زندگی بسر کی بلکہ ایک حرّیت پسند راہ نما کے طور پر کشمیر پر بھارت کے قبضے کے خلاف مسلمانوں میں آزادی کی جوت جگائے رکھی۔

اسی جنّت نظیر وادی میں علی گیلانی نے تو ہمیشہ کے لیے اپنی آنکھیں‌ موند لیں، لیکن ان کے اس نعرے ’ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے‘ کو گویا نئی زندگی مل گئی ہے۔

ہر کشمیری مرد و زن، بوڑھے اور بچّے بھی یہ نعرہ بلند کرتے ہوئے اپنے راہ نما اور کشمیر کے اس مجاہد کو یہ یقین دلا رہے ہیں کہ آزادی کا خواب ضرور پورا ہو گا اور ان کی جدوجہد، بے پناہ ایثار اور ان گنت قربانیوں کو کشمیری ہمیشہ یاد رکھیں گے۔

سیّد علی شاہ گیلانی کی قیادت اور ان کی جدوجہد سے متعلق تو بہت کچھ لکھا جارہا ہے، لیکن ہم یہاں ان کی فکر و نظر کا ایک خوب صورت پہلو اور وہ زاویہ آپ کے سامنے رکھتے ہیں جو انھیں ایک بیدار مغز شخصیت اور دین و ملّت کا مونس و غم خوار بھی ثابت کرتا ہے۔ انھوں نے اپنی اساس اور میراث کو نئی نسل تک پہنچانا بھی اپنا فرض سمجھا اور کشمیریوں کی سیاسی راہ نمائی کے ساتھ نسلِ‌ نو کو ان کے آبا کے درد اور ان کی دیرینہ خواہش سے بھی آگاہی دی ہے۔

یہ کام انھوں نے اپنی تصنیف’’روحِ دین کا شناسا، اقبالؒ‘‘ کے ذریعے انجام دیا ہے، جو چیدہ چیدہ انتخابِ کلامِ اقبال اور اس کے ترجمے کا شاہ کار ہے۔

سیّد علی شاہ گیلانی نے تہذیبی اور تشریحی عبارات کے ذریعے اپنے احساسات اور جذبات سے فکرِ اقبال کو انقلاب آفریں بنا دیا ہے۔ تین سو صفحات پر مشتمل اس تصنیف کا مقصد سیّد علی گیلانی نے ان الفاظ میں بتایا ہے:

’’ملّت کے جوانوں کو آج خدا بیزار اور آخرت فراموش تہذیب ہر چہار طرف سے گھیرے ہوئے ہے۔ اس گھیرے سے نکالنے کے لیے اقبالؒ کا درد و سوز سے پُر کلام کششِ ثقل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی مقصد کے پیشِ نظر میں نے اپنی کم علمی، بے بضاعتی، بے ما ئیگی اور ناتوانی کے باوصف ان کے حیات بخش پیغام اور کلام کی خوشہ چینی کی ہے۔‘‘

اس کتاب کی تعارفی سطور میں ڈاکٹر شفیع شریعتیؔ لکھتے ہیں:

’’وہ ملّتِ اسلامیہ کے ایک ایسے جتھے کا پرچم تھامے ہوئے ہیں جس کی چیخیں عشروں سے فلک بوس برفیلی چوٹیوں کے ساتھ ٹکراتی رہی ہیں، جس کی آہیں پنبہ رنگ بادلوں کی صورت میں برسنے کے قریب ہیں اور جس کے سینے پر غلامی اور محکومی کے زخم ولرؔ اور ڈلؔ کی سی گہرائی اور کشادگی رکھتے ہیں۔

ملّتِ اسلامیہ کی مجموعی زبوں حالی اور اقبالؒ کے محبوب آبائی وطن کشمیر کی خوں چکانی پر اپنے احساسات اور جذبات کا اظہار کرنے کے لیے سیّد علی گیلانی فکرِ اقبال اور شعرِ اقبال کو ایک وسیلۂ گرہ کشا سمجھتے ہیں۔ ملّتِ اسلامیہ کی عظمتِ رفتہ کی بازیافت کی امنگ بیدار کرنے، خشک رگوں میں تازہ خون دوڑانے، لا دین تہذیبی جارحیت کے سیلاب کو روکنے اور مسلمان نوجوان کو خود آشنا اور خدا آشنا کرنے کے لیے جو لازوال نسخۂ کیمیا (کلامُ ﷲ اور سیرتِ رسول ﷲ‌ﷺ) مسلمانوں کے پاس موجود ہے، اس کی ترغیب، تفسیر اور تشہیر فکر اقبال کے ترکیبی نظام میں نمایاں اہمیت رکھتی ہیں۔

کلامِ اقبال اس نسخہ کیمیا کے سمجھنے اور برتنے میں شاہِ کلید کا حکم رکھتا ہے۔ سید علی گیلانی فکرِ اقبال کے اس اہم اور بنیادی پہلو سے اس قدر متاثر ہیں کہ وہ علامہ مرحومؒ کو نہ صرف اپنا روحانی مرشد بلکہ’’ روحِ د ین کا شناسا‘‘ کہتے ہیں۔‘‘

فرزند و مجاہدِ کشمیر اور روحِ حرّیت سیّد علی گیلانی کی اس گراں قدر تصنیف کا انتساب بھی پڑھ لیجیے جس سے قوم و ملّت کے لیے ان کا قلبی و ذہنی اضطراب، درد اور فکرمندی عیاں ہے۔ انتساب ملاحظہ ہو۔

’’دخترانِ و فرزندانِ ملّت کے نام!
جو مشرکانہ تہذیب اور لادین سیاست کی زد میں ہیں۔‘‘

Comments

یہ بھی پڑھیں