The news is by your side.

Advertisement

’’اتّفاق کے نقصانات جانیے!‘‘

اردو کے ممتاز مزاح گو شاعر ہری چند اختر نے سنجیدہ شاعری بھی کی، لیکن ان کی وجہِ شہرت طنز و مزاح پر مبنی کلام ہے۔

وہ نام وَر شاعر حفیظ جالندھری کے شاگرد تھے۔ ہری چند اختر کے کچھ مضامین بھی ان کے قلم کی شوخی اور ظرافت کا نمونہ ہیں اور درجنوں لطائف اور دل چسپ قصّے بھی ان سے منسوب ہیں۔ یہ پارہ جو ہم یہاں نقل کررہے ہیں، ان کی شگفتہ بیانی کا خوب صورت نقش ہے۔ ملاحظہ کیجیے۔

سالانہ امتحان میں مضمون کا موضوع تھا، ’’اتفاق۔‘‘

استاد نے طلبا کو بتا رکھا تھا کہ جب کسی چیز پر مضمون لکھنا ہو تو تین چیزوں کا خیال رکھو۔

1۔ تمہید: یعنی اس چیز کی وضاحت جس پر مضمون لکھنا ہو۔

2۔ فوائد: پھر اس کے فائدے بیان کرو۔

3۔ نقصانات: اور آخر میں اس کے نقصانات تحریر کرو۔

ایک طالبِ علم کو استاد کا یہ سبق حرف بہ حرف یاد تھا۔ چناں چہ اس نے تمہید کے طور پر اتفاق کی معنویت پر چند جملے تحریر کیے۔ پھر اس کے فائدے گنوائے اور مثال کے طور پر بوڑھے اور اس کے بیٹوں کی وہ کہانی لکھ دی جس میں بوڑھا اتفاق کی تلقین کرتے ہوئے بیٹوں کو تنکوں کا ایک گھٹا توڑنے کی ہدایت کرتا ہے۔

جب اتفاق کے نقصانات لکھنے کا سوال پیدا ہُوا تو اس نو عمر مضمون نگار کا قلم چند لمحوں کے لیے رک گیا۔ وہ سوچ میں پڑگیا کہ کیا لکھے۔

آخر ایک دم اس کی تخلیقی رگ پھڑکی اور اس نے لکھنا شروع کیا۔

’’جیسے ہر چیز کے فائدے اور نقصان ہوتے ہیں، اسی طرح اتّفاق کے بھی بعض نقصانات ہوتے ہیں، جیسے اتفاق سے دو موٹروں کی ٹکر ہوجاتی ہے، یا اتفاق سے کوئی گاڑی پٹری سے اتر جاتی ہے اور اس طرح اتّفاق سے بعض دفعہ بہت سا جانی اور مالی نقصان ہوجاتا ہے ۔‘‘

اور اتّفاق سے بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ کل کا وہ بچّہ جس نے یہ مضمون تحریر کیا تھا بعد کا پنڈت ہری چند اختر تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں