The news is by your side.

Advertisement

الماری کی نیلامی

دارُالاشاعت پنجاب کی کتابوں کا برِصغیر بھر میں چرچا رہا۔ نیّر مسعود ان کتب کے سحر سے کبھی نہ نکل سکے۔

بچپن میں ان کتابوں تک رسائی کا ذریعہ ہمسائے میں معروف فکشن نگار الطاف فاطمہ کا گھر تھا۔ تقسیم کے بعد وہ اس خزینے سے کس طرح محروم ہوئے اس کی کہانی نیّر مسعود نے محمد خالد اختر کے نام خط میں رقم کی:

’’بچّوں کی کتابیں مجھے پڑوس میں بہن الطاف فاطمہ صاحبہ کے یہاں پڑھنے کو ملتی تھیں۔ شیشے لگی ہوئی ایک چھوٹی سی الماری میں دارُالاشاعت پنجاب کی کتابیں اور بچّوں کی دوسری کتابیں سلیقے سے سجی رہتی تھیں اور کبھی کبھی میرا پورا دن ان کتابوں کی سیر میں نکل جاتا تھا۔

تقسیم کے بعد یہ خاندان پاکستان چلا گیا، جس کے کچھ دن بعد اس گھر کا سامان نیلام ہوا۔ نیلام کی صبح یہ سامان باہر نکال کر رکھا گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ میزوں، کرسیوں اور پلنگوں کے ساتھ کتابوں کے خزانے سے بھری ہوئی یہ محبوب الماری بھی رکھی ہوئی ہے۔ دوڑا ہوا والدہ کے پاس پہنچا کہ اس کی بولی میرے نام چھڑوائی جائے۔

مشکل یہ تھی والد صاحب (پرانا سامان خریدنے کا شوق رکھنے کے باوجود) ایسا سامان کبھی نہیں خریدتے تھے جو ان کے کسی عزیز یا واقف کار کو مجبوراً فروخت کرنا پڑ جاتا ہو۔ میری خود ان سے کہنے کی ہمّت نہ ہوئی۔ والدہ کو وکیل بنایا۔ انھوں نے وکالت کا حق ادا کر دیا لیکن مقدّمہ نہ جیت سکیں۔

ایک دیوار پر بیٹھ کر میں نے نیلامی کا منظر دیکھا۔ الماری کی باری آئی اور بالآخر چار روپے ایک، چار روپے دو، چار روپے تین، بلکہ، چار روپے (کھٹ) تین کی آواز سنتے ہی میں نے خود کو دیوارسے نیچے گرا دیا (یہ گویا خود کشی فرمائی تھی)۔‘‘

("گزری ہوئی دنیا سے” انتخاب، از قلم محمودُ الحسن)

Comments

یہ بھی پڑھیں