The news is by your side.

Advertisement

وہ چٹپٹی غذاؤں کو ترس گیا تھا!

ابنُ الوقت مولوی نذیر احمد کا ایک مشہور ناول ہے جو 1888ء میں لکھا گیا۔ اس کے تین اہم کرداروں میں سے ایک ابنُ الوقت ہے جو انگریزوں سے متاثر ہو کر ان جیسی وضع قطع اپناتا ہے اور جدید خیالات کا حامی بن کر سرکار کے قریب ہونے کی کوشش کرتا ہے۔

لیکن اس کے ساتھ ہی مصنّف نے اس کردار کو اپنے مذہب اور ہندوستانی معاشرت سے دور ہوتا بھی دکھایا ہے اور وقت بھی اس پر آتا ہے جب وہ ہندوستانی معاشرے میں اپنی قدر کھو دیتا ہے۔ اسے جگہ جگہ خفّت اٹھانا پڑتی ہے اور ستم ظریفی یہ کہ آہستہ آہستہ انگریز بھی اس سے بدظن ہوجاتے ہیں۔

اس ناول سے یہ پارہ ہم یہاں نقل کررہے ہیں جو آپ کی دل چسپی اور توجہ کا باعث بنے گا۔

”ہندوستانی سوسائٹی میں ان لوگوں کو چھوڑ کر جنھوں نے اس کی وضع کو اپنا لیا تھا، کوئی اس کو پسند نہ کرتا تھا۔ انگریزوں میں اعلیٰ درجے کے چند انگریز اس کے خیالات کی قدر کرتے تھے۔ اس کے مخالف بہت تھے اور یہ بات ابن الوقت کو بھی معلوم تھی۔”

"یہی خیال اکثر اس کو رنجیدہ کردیتا تھا۔ اس کے اپنے بیوی بچے تو سب غدر سے پہلے مَر کھپ ہو چکے تھے۔ رشتے دار تو رشتے دار اس کو ہندوستانی سوسائٹی کے چھوٹ جانے کا بھی افسوس تھا۔ اس نے بارہا اپنے راز داروں سے کہا کہ انگریزی کھانا کھاتے اتنی مدت ہوئی لیکن مجھے سیری نہیں ہوئی اور وہ اکثر خواب میں ہندوستانی کھانا کھاتے دیکھتا ہے۔”

"ایک خدمت گزار کا کہنا تھا کہ ایک بار بخار کی حالت میں ابن الوقت ہندوستانی کھانوں کے نام لے کر روتا تھا۔ پلاؤ، بریانی، مونگ کی دال، ماش کی دال، قلمی بڑے اور کباب وغیرہ۔ اس سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ چٹپٹی غذاؤں کو ترس گیا تھا۔”

"وہ اپنی کوٹھی میں تربیت یافتہ نوکروں کو بھاری تنخواہیں دے کر رکھا ہوا تھا۔ اس کے نوکر بھی اس کے انگریزی ذوق سے خوب واقف تھے اور پھر ہر مہینے اس کے ہاں دعوت ہوا کرتی تھی۔ کھانا تو رات کے نو دس بجے ملتا تھا لیکن تیاری صبح سویرے سے شروع ہو جاتی تھی۔ بعض اوقات ابن الوقت گھبرا کر بول اٹھتا تھا کہ میں نے یہ کہاں کی مصیبت جان کو لگا لی ہے۔”

"یہ تو ہوئی میزبانی کی بات۔ مہمانی کی نزاکتیں تو ابن الوقت کے نزدیک اور سر درد کا باعث تھیں۔ اگر کسی انگریز نے ابن الوقت کی دعوت نہ کی اور اکثر ایسا ہوتا تو اس کے دل پر ایک صدمہ گزرتا وہ اس کو اپنی ذلت سمجھتا۔ نہ صرف انگریزی سوسائٹی میں بلکہ جی ہی جی میں اپنے نوکروں سے تک شرمندہ رہتا۔ اگر کہیں اس کو بلاوا بھی آتا تو یہ فکر ہوتی کہ کس کی کیسی آؤ بھگت ہوئی۔ کون لیڈی کس کے پاس بیٹھی۔ الغرض انگریزی سوسائٹی میں داخل ہونے کے خبط نے اس کو بے چین کر رکھا تھا۔”

"دن رات اسی خیال میں غمگین رہا کرتا۔ جو شخص دنیا میں اتنا غرق ہو اس کو دین داری سے کیا سروکار؟ٖ فضول بکھیڑوں سے فرصت ملے تو دین کی طرف توجہ دے۔”

Comments

یہ بھی پڑھیں