The news is by your side.

Advertisement

برصغیر میں معاشی، سیاسی انحطاط اور فیوڈل نظام

سیّد سبطِ حسن پاکستان کے مشہور بائیں بازو کے دانش ور، صحافی اور ادیب تھے جن کی کتاب نویدِ‌ فکر سے یہ پارہ نقل کیا گیا ہے۔ انھوں نے اپنی فکر کا اظہار کرتے ہوئے مختلف سیاسی، سماجی اور معاشی مسائل کو تاریخ اور مختلف ادوار کے ساتھ جوڑتے ہوئے ہندوستان میں ریاست اور عوام اور نظام پر بات کی ہے۔

وہ لکھتے ہیں: برصغیر کے معاشی اور سیاسی انحطاط کی بڑی ذمّہ داری اسی فیوڈل نظام پر عائد ہوتی ہے۔

اسی نظامِ اقتدار کی ہمہ گیری کے باعث ملک میں وہ سماجی حالات پیدا نہ ہو سکے جن میں سرمایہ داری نظام کو فروغ ہوتا۔ نہ صنعت کاروں، مہاجروں اور بیوپاریوں کا طبقہ اتنا مضبوط ہوا کہ وہ سیاسی اقتدار میں شرکت کا مطالبہ کرتا یا طاقت آزمائی کرکے اقتدار پر قابض ہوجاتا اور نہ دست کاری کی صنعتیں خود کار صنعتوں میں تبدیل ہو سکیں جیسا کہ یورپ میں ہوا۔

یہ محاکمہ اپنی جگہ درست سہی لیکن قرونِ وسطیٰ کے تاریخی حالات میں نظم و نسق کا کیا کوئی دوسرا طریقہ ممکن تھا۔ کیا سلاطینِ دہلی خواہ وہ پٹھان تھے یا مغل تاریخ کے جبر سے آزاد ہو سکتے تھے۔ ہمارا خیال ہے کہ ان کے لیے یہ ممکن نہ تھا۔ بات یہ ہے کہ شخصی حکومتوں کے دور میں کہ نمائندے ادارے سرے سے مفقود ہوتے ہیں۔ تخت و تاج کی سلامتی ہر فرماں روا اپنا بنیادی فریضہ سمجھتا ہے۔

ظاہر ہے کہ طاقت ور سے طاقت ور بادشاہ بھی خود تنہا اپنا بچاؤ نہیں کرسکتا بلکہ اس کو کسی نہ کسی طبقے یا گروہ کا تعاون حاصل کرنا پڑتا ہے البتہ اس تعاون کی قیمت اختیارات میں شرکت کی شکل میں ادا کرنی ہوتی ہے۔

سلاطینِ دہلی نے یہ تعاون، یہ وفاداری جاگیر اور منصب عطا کرکے حاصل کی۔

مثال کے طور پر صوبوں کے نظم و نسق پر ہی غورکریں، لیکن یہ حقیقت ذہن میں رکھیں کہ سترھویں اٹھارویں صدی میں مرکز اور صوبوں کے درمیان رابطے کی وہ سہولتیں موجود نہ تھیں جو اب ہیں۔ اس وقت نہ موٹریں اور ریل گاڑیاں تھی نہ ہوائی جہاز۔ نہ تار نہ ٹیلی فون نہ وائر لیس، ایسی صورت میں بس یہی ممکن تھا کہ معتبر اور وفادار امرائے دربار کو صوبوں کا نگراں بنایا جائے۔ نقد ادائیگی ممکن نہ تھی۔ سکّوں کا رواج بہت کم تھا۔ کیوں کہ جاگیری نظام میں چیزیں بازار میں فروخت ہونے کے لیے بہت کم بنتی تھیں لہٰذا سکّوں کی ضرورت نہ تھی۔ سرکاری عہدیداروں کو تنخواہیں لا محالہ زمین یا جنس کی شکل میں ادا کی جاتی تھیں۔

کوئی بادشاہ فیوڈل ازم کے دائرے میں رہ کر بدی کے اس چکر سے نکل ہی نہیں سکتا تھا اور اگر کسی نے کوشش کی بھی تو وہ ناکام ہوا۔ علاؤالدین خلجی، محمد بن تغلق اور اسلام شاہ سوری کے تجربے اسی وجہ سے کام یاب نہ ہوسکے۔

اختیارات میں شرکت کی دوسری صورت یہ ہو سکتی تھی کہ صوبائی وحدتوں کے حقِ خود اختیاری کو تسلیم کرلیا جاتا اور ان کا نظم و نسق منتخب شدہ نمائندوں کے سپرد کردیا جاتا جیسے امریکا میں ہوتا ہے لیکن یہ اسی وقت ممکن تھا جب خود مرکز میں کوئی منتخب شدہ نمائندہ حکومت موجود ہوتی، مگر قرونِ وسطیٰ میں جہاں اقتدارِ اعلیٰ کا سرچشمہ ریاست کے باشندے نہیں بلکہ ایک فردِ واحد کی ذات ہوتی تھی اور باشندوں کی حیثیت شہریوں کی نہیں بلکہ رعایا کی ہوتی تھی اس قسم کی طرزِ حکومت کا تصوّر بھی ممکن نہ تھا۔ قرونِ وسطیٰ کا ہندوستان پانچویں صدی قبل مسیح کے یونان سے دو ہزار برس پیچھے تھا۔

سلطنتِ مغلیہ کی عمارت بھی جاگیری نظام پر قائم تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں