The news is by your side.

Advertisement

کرونا وائرس: وہ بحری جہاز جس کے مسافروں کو بغیر کھڑکی والے کیبنز میں محصور کردیا گیا

دنیا بھر میں جہاں کرونا وائرس نے سب کو خوفزدہ کردیا، وہیں سب سے زیادہ اذیت ناک صورتحال میں برطانیہ کے اس بحری جہاز ڈائمنڈ پرنسز پر سوار مسافر آگئے جنہیں وائرس کے پیش نظر جہاز سے اترنے سے روک دیا گیا اور اندر ہی محصور کردیا گیا۔

ڈائمنڈ پرنسسز نامی یہ کروز شپ تین فروری کو ہانگ کانگ سے جاپان پہنچا تھا اور یہیں اس میں سوار ایک مسافر میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی۔

اس کے بعد اس جہاز پر موجود 3 ہزار سے زائد افراد کو جہاز میں ہی محصور کردیا گیا، بعد ازاں جہاز کے 600 مسافروں میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی۔

کئی دن بعد سخت اسکریننگ کے بعد جہاز کے مسافروں کو باہر نکالا گیا اور کرونا وائرس کی علامات نہ رکھنے والے افراد کو ان کے گھر جانے کی اجازت دے دی گئی۔

جہاز کے مسافروں میں شامل 63 سالہ کارلن رائٹ کے لیے اس جہاز پر گزارے گئے دن ایک بھیانک خواب کی مانند ہیں۔

جہاز سے اترنے کے بعد بین الاقوامی خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ جہاز کا کپتان روز ہمیں امید دلاتا تھا کہ ہم بہت جلد جہاز سے اتر سکیں گے، لیکن وہ وقت آنے میں بہت سے دن لگ گئے۔

ان کا کہنا ہے کہ حکام ہمارے بارے میں پریشان تھے کہ جہاز کے مسافروں اور عملے کے ساتھ کیا کیا جائے، ’ہم سے ایسا سلوک کیا جارہا تھا جیسے ہم طاعون کے مریض ہیں‘۔

کارلن بتاتی ہیں کہ مسافروں کو جہاز میں ان کے کیبنز تک محدود کردیا گیا تھا، ’میں خوش قسمت تھی کہ میرے کیبن میں ایک کھڑکی موجود تھی، بے شمار مسافر تو اس سے بھی محروم تھے‘۔

ان کے مطابق جہاز کے عملے نے مسافروں کو مفت انٹرنیٹ، فلمیں اور ورزش کی ویڈیوز فراہم کیے رکھیں تاکہ وہ اپنا وقت گزار سکیں۔

کارلن کا کہنا ہے کہ یہ تعطیلات ان کی زندگی کی بدترین تعطیلات تھیں، اب مستقبل میں ان کے کسی بھی بحری جہاز کے سفر کا امکان نہیں ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں