The news is by your side.

Advertisement

امِ رباب کے والد، دادا اور چچا کے قتل کیس میں اہم پیشرفت

کشمور: سندھ پولیس نے ام رباب کے خاندان پر قیامت ڈھانے والے مرکزی ملزم کو حراست میں لے لیا۔

نمائندہ اے آر وائی نیوز کے مطابق سندھ پولیس نے تہرے قتل میں نامزد مرکزی ملزم مرتضیٰ چانڈیو کو کمشور سے ایک کارروائی کے نتیجے میں گرفتار کیا۔

پولیس نے تہرے قتل میں مطلوب ملزم کے سر کی قیمت دس لاکھ روپے مقرر کی تھی۔ مرتضیٰ چانڈیو پر الزام ہے کہ اُس نے ام رباب کے والد، دادا اور چچا کو فائرنگ کر کے قتل کیا۔

واضح رہے کہ سندھ کے ضلع دادو کی تحصیل مہیٹر میں 17 جنوری کو مسلح افراد نے فائرنگ کر کے ایک ہی خاندان کے تین افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔

مزید پڑھیں: پیپلزپارٹی کے دو ایم پی ایز نے والد، دادا اور چچا کو قتل کیا، ام رباب

مقتول کی بیٹی امِ رباب کی سندھ ہائی کورٹ کے باہر ننگےاحتجاجاً ننگے پیر آنے کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس کے بعد اس کیس کو ہائی پروفائل قرار دیا گیا۔

سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے ام رباب کے احتجاج کا از خود نوٹس لے کر آئی جی ، وزارتِ داخلہ سندھ سمیت متعلقہ اداروں سے رپورٹ طلب کی تھی۔ گزشتہ سماعت پر چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار اہم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ پولیس دو مفرور ملزمان کو بھی گرفتار نہیں کرسکی۔

یہ بھی پڑھیں: سکھر، ام رباب چانڈیو کے والد، دادا اور چچا کے قتل کا مرکزی ملزم گرفتار

ام رباب کا دعویٰ ہے کہ اُن کے والد، دادا اور چچا کو پاکستان پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے اراکین صوبائی اسمبلی نے قتل کروایا۔ یاد رہے کہ اس سے قبل نومبر میں سندھ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے تہرے قتل میں ملوث مرکزی ملزم ذوالفقار چانڈیو کو بلوچستان سے کشمور منتقل ہوتے ہوئے گرفتار کیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں