The news is by your side.

Advertisement

سندھی زبان میں بننے والی پہلی فلم روس کے بڑے فلم فیسٹیول کا حصہ بن گئی

سندھی زبان میں بنائی گئی پہلی پاکستانی شارٹ فلم ’اے ٹرین کراسز دی ڈیزرٹ‘ کو روس میں منعقد ہونے والے عالمی میلے میں نمائش کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔

یہ ایک شارٹ فلم ہے جس کا دورانیہ بیس منٹ ہے، فلم کی کہانی دو بھائیوں کی زندگی کے گرد گھومتی ہے، جن میں سے ایک کو کینسر لاحق ہو جاتا ہے، دن بہ دن اس کی طبیعت بگڑتی چلی جاتی ہے، اور دوسرا بھائی اس کی جان بچانے کے لیے جدوجہد کرتا ہے۔

اس فلم کی نمائش اس سے قبل ترکی اور امریکا میں بھی کی جا چکی ہے، مجموعی طور پر اسے اب تک 6 فلم فیسٹیولز میں نمائش کے لیے پیش کیا جا چکا ہے۔

فیچر فلموں کی طرح شارٹ فلمز بھی بہت شوق سے دیکھی جاتی ہیں، نیٹ فلیکس پر بھی آپ کو کئی شارٹ فلمیں نظر آئیں گی، کیوں کہ یہ مختصر وقت میں نہایت طاقت ور پیغام اور پریزنٹیشن پر مبنی ہوتی ہیں، مختصر فلم کم دورانیے کی وجہ سے فلم ساز کے لیے ایک چیلنج بھی ہوتا ہے۔

یہ مختصر فلم راہول اعجاز نے لکھی ہے، وہ ہی اس کے ڈائریکٹر بھی ہیں، یہ فلم راہول کی پہلی باقاعدہ شارٹ فلم ہے جسے کئی ممالک میں بے پناہ پذیرائی مل رہی ہے، رائٹر ڈائریکٹر راہول اعجاز نے بتایا کہ اس فلم کو لکھنے اور بنانے میں انھیں 6 ماہ کا عرصہ لگا۔ اس فلم کو گوئتے انسٹیٹیوٹ پاکستان نے پروڈیوس کیا ہے، اسسٹنٹ ڈائریکٹر اقرا رشید مہر ہیں، جب کہ سنیماٹوگرافی علی ستار نے تیار کی ہے۔

انھوں نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں بتایا کہ تین سال پہلے ان کے کزن کو کینسر لاحق ہوا تھا، جنھیں دیکھ کر انھوں نے یہ شارٹ فلم لکھی، تاہم انھوں نے واضح کیا ہے کہ کہانی حقیقی نہیں ہے، لیکن حقیقی کرداروں پر مبنی ضرور ہے، حقیقی زندگی میں تو ہم کزن ہیں لیکن کہانی میں میں نے دونوں کو بھائی بنا کر پیش کیا۔

راہول اعجاز نے بتایا کہ انھوں نے خود کبھی اداکاری نہیں کی، اور یہ کہ وہ اچھے ایکٹر نہیں ہیں، تاہم وہ فوٹو گرافر رہے ہیں، صحافی رہے ہیں اور فلم کریٹک بھی۔

ان کو جو اپنے کزن کی بیماری کا تجربہ ہوا تھا اسے اپنے اندر ایک شکل دیتے ہوئے انھیں ڈیڑھ سال کا عرصہ لگا، پھر ڈیڑھ مہینا فلم کے اسکرپٹ کو سوچنے اور تیار کرنے میں لگا، پھر ایک دن کی شوٹ تھی اور پھر کرونا وبا کی وجہ سے اس کی ایڈیٹنگ میں 4 ماہ کا عرصہ لگا۔

انھوں نے بتایا کہ یہ کردار اور پرفارمنس ہے جس کی وجہ سے اس فلم کو بہت پسند کیا جا رہا ہے، اگر میرے پاس ان کیریکٹرز کو اچھے سے سمجھنے والے اداکار نہ ہوتے، تو شاید یہ فلم اتنی کامیاب نہ ہوتی، اس لیے سارا کریڈٹ جاتا ہے طارق راجہ اور نادر حسین کو۔

راہول اعجاز کا کہنا تھا کہ انھوں نے یہ فلم اپنے کزن کے نام منسوب کی ہے، اور سندھی زبان میں اسے بنانے کا ایک سبب یہ تھا کہ چوں کہ میں سندھی ہوں، تو اس کا اصل جوہر سندھی ہی میں نکل کر آ رہا تھا، اور مجھے اسے اسکرین پر منتقل کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوا، پھر یہ نکتہ سامنے تھا کہ سندھی زبان میں بھی تو کوئی کچھ بنائے، تو میں نے سندھی سنیما کا بیج بویا ہے۔

انھوں نے کہا کہ میں نے بس اسے فیسٹیول میں بھیجا اور وہ منتخب ہو گئی، اس میں ایک مشہور مصری شاعر اشرف ابو الیزید (اشرف ڈالی) کی دو نظمیں میں نے سندھی میں ترجمہ کر کے شامل کی ہیں، انھوں نے ہی مجھے مشورہ دیا تھا روسی فیسیٹول میں بھیجنے کا، کیوں کہ یہ ایک بڑا فیسٹیول ہے، اور وہاں پوری دنیا سے مسلم ممالک سے فلمیں نمائش کے لیے آتی ہیں، تو کوئی تیس چالیس فلموں میں پاکستان سے یہ واحد فلم ہے جو شامل کی گئی ہے۔

راہول اعجاز نے بتایا کہ اب ان کا اگلا قدم سندھی زبان کی مکمل فیچر فلم ہے، جس کا اسکرپٹ بھی وہ لکھ چکے ہیں، یہ فلم بننے کے بعد سنیما پر ریلیز کی جائے گی، یہ فلم سندھی ثقافت سے متعلق ہے اور شاہ عبدالطیف بھٹائی کی شاعری سے متاثر ہو کر لکھی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں