The news is by your side.

Advertisement

آتش فشاں نے انسانی دماغ کو شیشہ بنا دیا

روم : اٹلی میں 2 ہزار سال قبل پھٹنے والے آتش فشاں کی راکھ نے انسانی دماغ کو شیشیے میں ڈھال دیا، جس کا اندازہ ماہرین کو آتش فشانی کے باعث ہلاک ہونے والے افراد کے ڈھانچوں کا جائزہ لینے کے بعد ہوا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق یورپی ملک اٹلی کے قریب واقع ماؤنٹ ویسویئس میں 79 ویں صدی عیسویں میں خوفناک آتش فشاں پھٹا تھا جس کی راکھ کئی کلومیٹر اوپر تک پھیلی تھی، اس ہولناک آتش فشانی کے باعث پومپیائی، ہرکولینیئم، اوپلونٹس اور اسٹیبیائی جیسے اہم شہروں کا نام و نشان مٹ دنیا سے مٹ گیا تھا۔

اس خوفناک حادثے کے باعث ہزاروں افراد لقمہ اجل بن گئے تھے اور انسانوں کو دماغ شیشیوں میں تبدیل ہوگئے تھے۔

یہ حیران کن انکشاف یونیورسٹی آف نیپلس کے ڈاکٹر پیئر پاؤلو بیٹرون نے ہرکولینیئم شہر سے ملنے والی ایک لاش کا جائزہ لینے بعد کیا ہے، ڈاکٹر پیئر پاؤلو بیٹرون کا کہنا تھا کہ آتش فشاں پھٹنے کے دوران درجہ حرارت اس قدر بڑھ گیا تھا کہ انسانی دماغ شیشہ بن گئے تھے۔

یونیورسٹی آف نیپلس کے ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ لاش کے دماغ سے خاص قسم کے ٹکڑے دریافت ہوئے تھے جو انسانی بھیجے کے تھے جو شیشے میں تبدیل ہوگیا تھا۔

ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ قدرتی طور پر ایسا کم کم ہوتا ہے لیکن پہلی مرتبہ اس کے شواہد ملے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ سنہ 1960 کے دوران کی گئی گھدائی میں 24 سالہ جوان کی لاش ملی تھی جو چہرہ نیچے کیے لکڑی کے بستر پر استراحت کررہا تھا کہ اس پر شدید گرم راکھ گری جس کے باعث وہ اس راکھ کے نیچے دب کر ہلاک ہوگیا۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ راکھ اس قدر تھی کہ اس جوان کا بھیجہ 520 درجے سینٹی گریڈ کی انتہائی حرارت پر شیشہ بن گیا۔

ماہرین نے خبر رساں اداروں کو بتایا کہ کھوپڑی کو کھولا گیا تو اندر سے شیشے کے سیاہ ٹکڑے برآمد ہوئے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ماہرین نے اسی جگہ جھلسی ہوئی ہڈیوں کے ٹکڑوں میں بھی خام شیشہ دریافت کیا ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں