The news is by your side.

دونوں بازوؤں سے محروم نوجوان سافٹ ویئر انجینئر بن گیا

دونوں بازوؤں سے محروم باہمت نوجوان نے اپنی معذوری کو مجبوری نہیں بننے دیا اور سافٹ ویئر انجینئر بن کر دنیا کے لیے مثال قائم کردی۔

یہ باہمت نوجوان اوکاڑہ کا رہائشی ذیشان ہے جو بچپن میں ایک حادثے میں کرنٹ لگنے کے باعث اپنے دونوں بازو گنوا چکا تھا لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری اور مصنوعی بازو لگوا کر تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور آج دنیا کے سامنے ایک کامیاب انجینئر کے روپ میں ہے۔

ذیشان نے اوکاڑہ میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد کامسیٹ یونیورسٹی سے سافٹ ویئر انجینئر کی ڈگری حاصل کہ اور صرف یہی بلکہ بلکہ اپنی اعلیٰ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے دوست کے ساتھ مل کر بچوں کی ایسی کمپیوٹرائزڈ کھلونا گاڑی تیار کی ہے جس کو موبائل ایپ سے چلانے کے ساتھ آواز سے بھی کنٹرول کیا جاتا ہے۔

نوجوان ذیشان جو صرف پڑھنے اور کمپیوٹر چلانے میں ہی ماسٹر نہیں بلکہ فٹبال بھی بڑے شوق سے کھیلتے ہیں بنے اے آر وائی نیوز کے مقبول مارننگ شو باخبر سویرا کے مہمان جہاں انہوں نے اپنی جدوجہد پر روشنی ڈالی اور نوجوانوں کو ایک نئی راہ دکھائی۔

ذیشان نے بتایا کہ جب ان کے کرنٹ لگنے سے دونوں ہاتھ ضائع ہوئے تو ان کی عمر صرف 9 سال تھی۔ لیکن حادثے کے بعد ہمت ہارنے کے بجائے ایک نئے عزم کے ساتھ تعلیم کا سفر جاری رکھا۔ زندگی میں معمول سے ہٹ کر کچھ ہو تو ایڈجسٹ ہونے میں کچھ وقت لگتا ہے لیکن میں نے جلد نئے حالات میں خود کو ڈھال لیا۔

 

کمپیوٹرائزڈ گاڑی بنانے کا خیال کیسے آیا؟ اس سوال کے جواب میں ذیشان نے کہا کہ جب میرے ساتھ حادثہ ہوا تو اس وقت میری عمر صرف 9 برس تھی۔ اس عمر میں گاڑیوں سے کھیلنا سب بچوں کو اچھا لگتا ہے لیکن میں جب گاڑی اور ریموٹ پکڑ نہیں پاتا تھا تو سوچتا تھا کہ ایسا کیوں ہوتا ہے اور شاید یہی وجہ اس تخلیق کی تحریک بنی۔

باہمت نوجوان نے بتایا کہ جب دوران تعلیم یونیورسٹی میں پراجیکٹ آیا تو اس خواب کو عملی جامہ پہنانے کا سوچا اور دوست کی مدد سے یہ سب کیا۔ یہ گاڑی نہ صرف موبائل ایپ بلکہ آواز سے بھی کنٹرول کی جا سکتی ہے۔ اس پراجیکٹ بنانے میں مجھے بڑا لطف آیا۔

ذیشان کے والد نے اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ میرے بچے کا شوق تھا پڑھنے کا اور میں نے یہ شوق پورا کیا۔ اب اس کا ایم فل کا شوق ہے اور میں یہ بھی پورا کروں گا جب کہ والدہ کہتی ہیں کہ میرا بیٹا بہت ہمت والا ہے۔ جب اس کے بازو کٹے تو اس نے ہمت نہیں ہاری اور پیروں سے کمپیوٹر چلانا شروع کیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں